کھانے کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنا مہنگا پڑگیا، ریسٹورنٹ مالک کو لاکھوں روپے جرمانہ

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں 2 میکلین اسٹار والے ریسٹورنٹ کے مالک کو میٹھے پر چیونٹیاں بطور سجاوٹ استعمال کرنے پر 15 ملین وون جرمانے کی سزا سنادی گئی، جبکہ ریسٹورنٹ چلانے والی کمپنی پر بھی 10 ملین وون جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا میں میٹھی ’سوربت‘ میں کٹھاس کے لیے کالی چیونٹیوں کے استعمال پر ریسٹورنٹ کے مالک کو جیل

سیئول ویسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ نے 16 ستمبر کو ریسٹورنٹ کے مالک، جن کی شناخت کم نام سے ہوئی، کو فوڈ سینیٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے اس مقدمے میں ریسٹورنٹ چلانے والی کمپنی کو بھی سزا سنائی۔

مقامی رپورٹس کے مطابق ریسٹورنٹ نے اپریل 2021 سے جنوری 2026 تک امریکا اور تھائی لینڈ سے خشک چیونٹیاں درآمد کرکے بعض کھانوں، بالخصوص سوربیٹ نامی ٹھنڈی میٹھی ڈش، پر بطور ٹاپنگ استعمال کیں۔ تحقیقات کے مطابق تقریباً 4 سال کے دوران 12,274 صارفین کو ایسی ڈشز پیش کی گئیں اور مجموعی طور پر تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں استعمال ہوئیں۔

جنوبی کوریا کے قوانین کے تحت صرف 10 اقسام کے حشرات کو انسانی خوراک میں استعمال کرنے کی اجازت ہے، جن میں ٹڈیاں اور بعض اقسام کے ریشم کے کیڑے شامل ہیں، تاہم چیونٹیاں ان منظور شدہ حشرات میں شامل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے ریسٹورنٹ کے خلاف فوڈ سینیٹیشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکام کو ریسٹورنٹ میں چیونٹیوں سے سجے کھانوں کی تصاویر اور آن لائن جائزوں کے ذریعے معلومات ملیں۔ بعد ازاں وزارتِ خوراک و ادویات کی جانب سے ریسٹورنٹ کا معائنہ کیا گیا اور چیونٹیوں کے استعمال سے متعلق شواہد سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: چیونٹیوں کی سمگلنگ کا الزام، چینی اور کینیائی شہری گرفتار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمہ معمولی نوعیت کا نہیں کیونکہ کھانے میں استعمال ہونے والی چیونٹیوں میں بھاری دھاتوں کی مقدار مقررہ حفاظتی حد سے زیادہ پائی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی مدنظر رکھا کہ ریسٹورنٹ نے چیونٹیوں والی ڈش کی تشہیر کی تھی۔

استغاثہ نے اس سے قبل ریسٹورنٹ کے مالک کے لیے ایک سال قید کی سزا طلب کی تھی۔ تاہم عدالت نے ملزم کے جرم تسلیم کرنے، سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے اور اس امکان کو بھی مدنظر رکھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ جنوبی کوریا میں چیونٹیوں کو بطور غذائی جزو استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

ریسٹورنٹ کے دفاع میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چیونٹیوں کا استعمال 15 کورسز پر مشتمل مینو کی صرف چند ڈشز میں معمولی مقدار میں کیا جاتا تھا اور تمام صارفین کو چیونٹیوں والی ڈش لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ دفاع کے مطابق تقریباً 60 فیصد صارفین نے چیونٹیوں والی سجاوٹ کا انتخاب کیا جبکہ دیگر صارفین کو متبادل ٹاپنگز دی جاتی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق چیونٹیوں سے تیار کی گئی ڈشز کی فروخت سے تقریباً 120 ملین وون آمدنی ہوئی۔ حکام کے مطابق چیونٹیوں کی مصنوعات امریکہ اور تھائی لینڈ سے منگوائی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیونٹیوں کی اسمگلنگ میں اضافہ، اس کے نقصانات کیا ہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں بعض حشرات کو باقاعدہ خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ حفاظتی اور صحت کے معیار پورے کرنا ضروری ہیں۔ چیونٹیوں کو اس منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ دنیا کے بعض دوسرے ممالک میں چیونٹیوں اور دیگر حشرات کو کھانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp