جنوبی کوریا میں دو ’مِشلین اسٹار‘ حاصل کرنے والے ایک نامور ریسٹورنٹ کے مالک کو ’سوربت‘ (میٹھے) کی سجاوٹ کے لیے غیر قانونی طور پر کالی چیونٹیوں کا استعمال کرنے پر ایک سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
سیؤل کے پراسیکیوٹرز نے غذائی تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر ریسٹورانٹ کے مالک کے خلاف عدالت سے جیل کی سزا اور بھاری جرمانے کی استدعا کر دی ہے۔
کھٹے ذائقے کے لیے غیر قانونی حشرات کا استعمال
مقامی میڈیا اور فوڈ سیفٹی وزارت کے مطابق مذکورہ ریسٹورنٹ نے تھائی لینڈ اور امریکا سے درآمد شدہ کالی چیونٹیاں ‘کٹھاس کا انوکھا ذائقہ’ پیدا کرنے کے لیے آئس شربت کے اوپر 3 سے 5 چیونٹیاں سجا کر گاہکوں کو پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا میں دروازے بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں؟ غیر ملکی شہری نے حیران کن تجربات بیان کر دیے
جنوبی کوریا کے قانون کے تحت انسانی خوراک کے لیے صرف 10 مخصوص حشراتِ الارض (جیسے ٹڈیاں اور سنڈیوں کی کچھ اقسام) کی اجازت ہے، جبکہ چیونٹیاں اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
لاکھوں کا کاروبار اور ثبوت
تحقیقات کے مطابق ریسٹورنٹ مالک نے جنوری 2025 تک تقریباً 4 سال کے عرصے میں یہ ڈش 12,000 سے زیادہ بار فروخت کی، جس سے اس نے 12 کروڑ وون (تقریباً 81,000 امریکی ڈالر) کمائے۔
فوڈ سیفٹی وزارت کی جانب سے جاری کردہ ثبوتوں میں ’کوژین بلیک اینٹس‘ کا لیبل لگا ہوا ایک کین بھی برآمد ہوا ہے۔
عدالتی کارروائی اور بھاری جرمانہ
سیؤل ویسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے مالک کو ایک سال قید کی سزا دینے کے ساتھ ساتھ 2 کروڑ وون (تقریباً 20 ملین وون) جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی۔
ملزم کا اعترافِ جرم اور معذرت
ریسٹورانٹ کے مالک کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ میٹھا صرف ان گاہکوں کو دیا جاتا تھا جو پہلے سے اس پر رضامند ہوتے تھے۔
مزید پڑھیں:امریکا میں پہلی مرتبہ گوشت خور پیراسائٹ سے انسانوں کے متاثر ہونے کی تصدیق
دوسری جانب ملزم نے اپنے حتمی بیان میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’میں اس واقعے پر معذرت خواہ ہوں، یہ پیشرفت متعلقہ قوانین سے مکمل واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔‘ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں سنایا جائے گا۔














