لانگ مارچ کا آغاز: لیوی بھتہ ختم کیا جائے، ورنہ احتجاج حکومت مخالف تحریک بنے گا، حافظ نعیم

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی بھتہ کے خلاف ‘سپر ٹرین مارچ’ کا آغاز آج کراچی سے ہو گیا ہے۔ یہ کاروان بذریعہ رحمان بابا ایکسپریس اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر میڈیا اور پارٹی کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ عوام پر مسلط کیا گیا پیٹرولیم لیوی کا بھتہ فوری طور پر ختم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر لیوی ختم کر دی جاتی ہے تو جماعت اسلامی کا احتجاج بھی ختم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہ احتجاج اس حد تک بڑھے گا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کی تحریک کا روپ دھار لے گا۔

یہ بھی پڑھیے ’لانگ مارچ ہر صورت ہوگا‘، جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم

امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے تو سخت پریشانی لاحق ہے، لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کو ملنے والی شدید اذیت اور معاشی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔ انہوں نے مطالبات کی منظوری اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بصورتِ دیگر اس احتجاجی تحریک کے دائرہ کار کو مزید پھیلا دیا جائے گا۔

سپر ٹرین مارچ کا مکمل روٹ اور شیڈول

جماعت اسلامی کے مطابق اس سپر ٹرین مارچ کا حیدرآباد، ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور اسٹیشنز پر والہانہ استقبال کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان رات 8 بجے روہڑی پہنچ کر ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ روہڑی سے یہ کاروان رحیم یار خان اور بہاولپور کے ریلوے اسٹیشنوں سے ہوتا ہوا ملتان کے لیے روانہ ہوگا، جہاں مختلف اسٹیشنز پر اس کا استقبال کیا جائے گا۔ ٹرین مارچ کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمان ملتان میں بھی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع

شیڈول کے مطابق، ٹرین مارچ کے اختتام کے بعد 22 ستمبر کو روڈ کارواں ملتان سے لاہور کے لیے روانہ ہوگا، جبکہ 23 ستمبر کو ‘سپر لانگ مارچ’ لاہور سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp