پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا، جبکہ ان کی گاڑی تھانے میں کھڑی ہے۔
مجھے نورین نیازی صاحبہ نے علیمہ خان صاحبہ کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے – ایسے میں علیمہ خانم صاحبہ کو… pic.twitter.com/GqPjM2jbAp
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 20, 2026
بیرسٹر گوہر خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نورین نیازی نے انہیں علیمہ خان کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور مقصد آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے، ایسے میں علیمہ خان کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا مارچ، خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کے استعمال اور ملازمین کی شرکت پر باضابطہ پابندی عائد
انہوں نے کہا کہ یہ حالات خراب کرنے کی جانب پہلا قدم ہے، تمام ایسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں اور علیمہ خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دے گی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔













