امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں آرلنگٹن نیشنل قبرستان کے قریب تعمیر کیے جانے والے مجوزہ ٹرائمفل آرج کو فوجی کمپلیکس کے طور پر استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے، جہاں ڈرونز اور اسنائپرز کے لیے انتظامات کے علاوہ بڑی مقدار میں گولہ بارود ذخیرہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ فوج کی ‘مضبوط درخواست’ پر انہوں نے 76 میٹر بلند محراب کو اعلیٰ معیار کے فوجی کمپلیکس اور فاتحانہ محراب میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی میں کب مسلح حملوں اور دھمکیوں کا سامنا رہا؟
ٹرمپ کے مطابق محراب میں بڑی تعداد میں ڈرونز رکھنے اور فوری طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی، جبکہ چھت اور پلازا کے علاقوں میں اسنائپرز تعینات کیے جاسکیں گے اور اسنائپرز کے لیے بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی ذخیرہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے اس اقدام کے لیے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن کو اپنی ترجیحات کے مطابق تبدیل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اس میں وائٹ ہاؤس کے سابق ایسٹ ونگ کی جگہ تقریباً 400 ملین ڈالر کی لاگت سے بال روم کمپلیکس کی تعمیر اور جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کے نام میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں
ان منصوبوں پر تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور دیگر افراد کی جانب سے تنقید کی گئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے واشنگٹن کے تاریخی مقامات کی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے قرار دیا تھا کہ مجوزہ محراب طیاروں کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، تاہم اس کے اوپر ‘ہمیشہ جلنے والی شمع’ نصب کرنا ضروری ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد محراب کی تعمیر میں ایک اہم فضائی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ محراب امریکا کی 250ویں سالگرہ کی یاد میں تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم ہوابازی کے ماہرین نے ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب اس کی تعمیر پر حفاظتی خدشات ظاہر کیے ہیں۔
سابق فوجیوں کی جانب سے بھی مجوزہ محراب کی تعمیر رکوانے کے لیے مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے سے لنکن میموریل اور آرلنگٹن نیشنل قبرستان کے درمیان تاریخی منظرنامہ متاثر ہوگا۔














