پاکستان میں ایک سال کے دوران تقریباً 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیسف کی رپورٹ میں بچوں کو آن لائن درپیش خطرات کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچوں میں تقریباً 85 فیصد ایسے تھے جن کے استحصال میں ملوث افراد انہیں پہلے سے جانتے تھے، جبکہ زیادہ تر متاثرین کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔
17 سالہ پاکستانی لڑکی زارا شاہ، جن کا نام حفاظتی وجوہات کی بنا پر تبدیل کیا گیا ہے، بھی آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
زرا کے مطابق، ’ہماری بات چیت ایک آن لائن گیم کھیلنے کے دوران شروع ہوئی اور اس نے ایک دوست کی طرح برتاؤ کرنا شروع کر دیا۔ بعد میں اس شخص نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور مجھ سے نازیبا تصاویر طلب کرنا شروع کر دیں۔‘
زارا نے بتایا، ’جب میں نے تصاویر دینے سے انکار کیا تو اس شخص نے دھمکی دی کہ وہ میرے خاندان کو آن لائن تلاش کرکے دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتا دے گا۔‘
زرا کے لیے خاندان کے سامنے حقیقت کھل جانے کا خوف ہی اسے خاموش رکھنے کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے کہا، ’مجھے اسکول جانے یا گھر سے باہر نکلنے سے بھی روک دیا جا سکتا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ خاموش رہنا مجھے بات کرنے سے بہتر راستہ لگا، لیکن یہ بے چینی مجھے ہر روز اندر سے ختم کر رہی تھی۔‘
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہونے والے تقریباً 71 فیصد بچوں نے یہ واقعہ کسی کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں کسی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں سمیت کسی باقاعدہ ادارے کو شکایت رپورٹ نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کی خاموشی کی بڑی وجوہات میں سماجی بدنامی، شرمندگی اور خاندان و معاشرے کے ردعمل کا خوف شامل ہیں۔
بچوں کے حقوق کی تنظیم ’پہچان‘ کی ڈائریکٹر مہک نعیم کے مطابق رپورٹ ہونے والے واقعات میں تقریباً 44 فیصد مکمل طور پر آن لائن پیش آئے، جن میں اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز میں شامل ہیں۔
یونیسف کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 74 فیصد بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث آن لائن پلیٹ فارمز تک بڑھتی رسائی کے ساتھ بچوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
یونیسف کی عالمی رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈینیئل کارڈیفیلٹ نے کہا کہ آن لائن استحصال اکثر دوستانہ گفتگو، گیمنگ، تحائف، رقم یا محبت کے وعدوں سے شروع ہوتا ہے، جبکہ ملزمان سوشل میڈیا پر دستیاب معلومات کے ذریعے اعتماد قائم کرنے میں مہینوں لگا سکتے ہیں۔
مسلم ہینڈز کی ترجمان طاہرہ افراسیاب نے کہا، ’پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔‘
انسانی حقوق کے وکیل سلمان آفریدی نے کہا، ’ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے گرومنگ، ترغیب، جبر، بلیک میلنگ، مواد کی تیاری، تقسیم اور کمرشلائزیشن کی ایک مکمل زنجیر دیکھ رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’اسے استحصال پر مبنی تجارتی ایکو سسٹم قرار دینے کی ٹھوس وجہ موجود ہے۔‘
آفریدی کے مطابق یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح محض 10 ہزار روپے جیسی معمولی رقم کے عوض جنسی مواد کی تیاری کے لیے معاشی کمزوری کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
زارا اور ان جیسی دیگر لڑکیوں کے لیے ایسے رابطے کے نتائج سے بچنا مشکل ہے جس کی شروعات ایک آن لائن گیم سے ہوتی ہے۔ زرا شاہ کے لیے آن لائن گیم سے شروع ہونے والا یہ رابطہ آج بھی خوف کا باعث ہے۔
ان کا کہنا ہے، ’میں خوفزدہ تھی اور اب بھی خوفزدہ ہوں۔ میں خوف کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں۔‘









