الہان عمر کے اصل نام پر سوالات، امریکی تحقیقات میں نیا انکشاف

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کے اصل نام سے متعلق نئے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی ترجمان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الہان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ان کے امیگریشن ریکارڈ کی بھی جانچ کر رہے ہیں، جبکہ حکام نے تاحال ان پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق تحقیقات سے واقف 2 ذرائع، جن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک اہلکار بھی شامل ہے، دعویٰ کرتے ہیں کہ رکنِ کانگریس کا پیدائشی نام ’الہان نور سعید علمی‘ ہے۔ امریکی ڈسٹرکٹ اٹارنی جینین پیرو نے بدھ کو عدالت میں درخواست دائر کی کہ الہان عمر کی واشنگٹن میں رہائش گاہ کی تلاشی کے وارنٹ سے متعلق دستاویزات فی الحال خفیہ رکھی جائیں، کیونکہ تلاشی کا عمل مکمل نہیں ہوا۔

عدالتی درخواست میں ان کا نام ’الہان نور سعید علمی، المعروف الہان عبداللہ عمر‘ درج کیا گیا ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق 12 اکتوبر کو علی الصبح ان کے گھر پر چھاپے کے دوران تفتیشی حکام نے ان کا ڈی این اے حاصل کیا اور ذاتی فون اور پاسپورٹ قبضے میں لے لیا۔ تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا الہان عمر یا ان کے والد نے امیگریشن دستاویزات میں دھوکا دہی کی تھی۔ ان کی بہن سحرہ نور سے بھی اس معاملے میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

مینیسوٹا کے سابق وفاقی امیگریشن جج نیتھن ہینسن کے مطابق اگر عدالت میں یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص نے غلط شناخت کے تحت سرکاری دستاویزات جمع کرائیں تو اس کے تعلیمی امداد، رہائش، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور ووٹنگ ریکارڈ سمیت متعدد معاملات کی قانونی حیثیت زیرِ سوال آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:الہان عمر کے گھر کی تلاشی، رکن کانگریس کا ٹرمپ پر سیاسی انتقام کا الزام

الہان عمر 1995 میں صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا پہنچی تھیں۔ وہ ان الزامات کی بھی تردید کرتی رہی ہیں کہ انہوں نے امیگریشن فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی سے شادی کی تھی۔ چھاپے کے بعد انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ الہان عمر پر تاحال کوئی جرم ثابت نہیں ہوا اور ان کے خلاف تحقیقات سے متعلق دعوؤں کی عدالتی تصدیق ہونا باقی ہے۔ ان کی ترجمان نے فاکس نیوز کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp