محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی نہ مل سکی

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

مزید پڑھیں: محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو جواب، طلبی کی وجوہات اور موبائل واپسی پر سوالات

محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ انہیں اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی نہیں مل سکی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد رضوان نے جاری انکوائری کے حوالے سے عوامی طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے دو مرتبہ اجازت طلب کی، تاہم بورڈ نے دونوں مواقع پر ان کی درخواست مسترد کردی۔

رضوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وائٹ بال کپتان اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

وہ این سی سی آئی اے کی تحقیقات سے متعلق تنازع، انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے بعد موبائل فون تحویل میں لیے جانے کے معاملے اور اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو لکھے گئے خط کی تفصیلات بھی بیان کرنا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد رضوان نے اپنے مرکزی معاہدے کی شرائط کے تحت پی سی بی سے اجازت مانگی تھی، تاہم بورڈ نے دونوں مرتبہ اجازت دینے سے انکار کردیا۔

مرکزی معاہدے کی شق 4.1 کے تحت کھلاڑی کو معاہدے میں شامل معاملات سے متعلق کوئی بھی عوامی بیان دینے سے قبل اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ محمد رضوان باہمی تعاون سے متعلق شق 16 کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ محمد رضوان کا مقصد پی سی بی یا کسی دوسرے ادارے پر الزام عائد کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ اپنا مؤقف اور واقعات کی ترتیب عوام کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔

رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیے جانے کا معاملہ

این سی سی آئی اے کی انکوائری کا آغاز پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملات کے پس منظر میں ہوا ہے۔ رپورٹس میں اس تحقیقات کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کے ڈریسنگ روم سے معلومات کے مبینہ افشا ہونے سے بھی جوڑا گیا ہے۔

لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے بعد محمد رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے لاہور ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کو بتایا تھا کہ کرکٹر کو ٹیسٹ میچ کے بعد ہوٹل کی لابی میں بلایا گیا اور نوٹس دیے بغیر ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

وکیل کے مطابق رضوان کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کا موبائل فون 3 گھنٹے کے اندر واپس کردیا جائے گا، تاہم ڈیوائس تاحال واپس نہیں کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق محمد رضوان نے موبائل فون تحویل میں لیے جانے کے معاملے پر آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی رہنمائی طلب کی تھی۔

محمد رضوان نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آیا آئی سی سی یا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن حکام کو ان کے خلاف ہونے والی کارروائی کا علم تھا یا وہ اس میں شامل تھے۔

انہوں نے یہ وضاحت بھی طلب کی تھی کہ موبائل فون طلب کرنے، اسے منتقل کرنے اور اس کا فرانزک معائنہ کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقۂ کار سے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی پابندی کی گئی یا نہیں۔

رضوان اور امام الحق این سی سی آئی اے کے سامنے پیش

محمد رضوان اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے امام الحق رواں ماہ کے آغاز میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ تاہم دونوں کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات میں اب تک کوئی حتمی نتیجہ باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: موبائل فون ڈیٹا کی تحقیقات، کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان سائبر کرائم ایجنسی میں پیش

محمد رضوان اور امام الحق ان 7 کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں لارڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp