ایک حالیہ رپورٹ بعنوان ’اسلامک اسٹیٹ آف خراسان کو سمجھنا، اس کا ارتقا، آپریشنل حکمت عملی اور بھارت کی تصویر کشی‘ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس کے پی، دولت اسلامیہ کی سب سے زیادہ فعال شاخوں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے جو پروپیگنڈا، بھرتی اور علاقائی نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے جنوبی ایشیا خاص طور پر بھارت اور افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے جبکہ داعش کی علاقائی شکست کے باوجود بین الاقوامی خلافت کے ہدف کو فروغ دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے، روس کا انتباہ
تاہم پاکستان کے نقطہ نظر کے مطابق یہ رپورٹ علاقائی عدم استحکام کے مرکزی محرک کو نظر انداز کرتی ہے جو افغانستان کے اندر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مسلسل وجود ہے۔
پاکستانی حکام نے بارہا دلیل دی ہے کہ ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی جیسے گروہ افغان سرزمین سے کام کرتے ہیں اور اسے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سنہ 2021 کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافے کا تعلق سرحد پار پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کو مبینہ طور پر حاصل آزادی اور پناہ سے ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد امام بارگاہ حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت داعش خراسان کے 5 دہشتگرد پشاور میں مقابلے میں ہلاک
رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت جیسے بیرونی دشمن عناصر افغان سرزمین کو پاکستان مخالف عسکریت پسند تنظیموں بشمول بلوچ لبریشن آرمی کی حمایت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ بھارت، بی ایل اے اور پاکستان کے اندر دہشتگردی میں ملوث دیگر گروہوں کو سیاسی، مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا ہے۔
بھارت اور طالبان کے درمیان روابط نے بھی اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے سیکیورٹی مفادات کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں دہشت گردی کو صرف آئی ایس کے پی کے پروپیگنڈا یا بھرتی کی کوششوں کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسلام آباد کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کا وجود، سرحد پار دہشتگردی اور بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے لیے بیرونی حمایت وہ اہم عوامل ہیں جنہیں پائیدار علاقائی استحکام کے حصول کے لیے حل کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کا ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بی ایل اے کیخلاف تعاون بڑھانے کا فیصلہ
پاکستان نے اس لیے بلا تفریق تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔














