امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ حکومت نے عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ ختم نہیں بلکہ صرف روکا گیا ہے اور پرامن مزاحمت کا سفر جاری رہے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے 2 ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پرامن مزاحمت نے عوام کو بیدار کیا ہے اور جس لیوی کے بارے میں پہلے کسی کو علم نہیں تھا، اب وہ بچے بچے کی زبان پر ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ پیٹرول سستا نہ ہونے کی صورت میں ملکی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے براہ راست ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے حکومتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لیوی کا پیٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں، یہ محض عوام سے آسانی سے ٹیکس وصول کرنے کا ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پوری تیاری اور سنجیدگی کے ساتھ حکومت کو لیوی کے خاتمے کے لیے ٹھوس تجاویز دی ہیں، لیکن افسوس کہ حکومت کے پاس ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں۔
انہوں نے حکومت کی معاشی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں صرف 3 فیصد کمی کرنے سے لیوی کے برابر آمدن حاصل کی جا سکتی ہے، مگر حکومت ایسا کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کی حکومتی منطق بالکل غلط ہے۔
آئی ایم ایف کے وفد کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف سے ڈرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں لیوی لگانا طے کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آئی ایم ایف نے یہ کہا ہے کہ بڑے جاگیرداروں کو ٹیکس میں چھوٹ دے دیں یا بجلی کے بلوں میں فکس چارجز لگا کر عوام کا خون چوسیں؟
حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ معاشی بحران میں حکومتی شہ خرچیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان حالات میں 11 ارب روپے کا نیا جہاز خریدا گیا اور 6.6 ارب روپے کی نئی گاڑیوں کا آرڈر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پرانا جہاز کدھر ہے اور اگر وہ ٹھیک ہے تو نیا کیوں خریدا گیا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی شہ خرچیاں کم کریں اور موجودہ گاڑیوں کا حساب دیں۔
پریس کانفرنس میں حافظ نعیم الرحمان نے کمرشل بینکوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے 38 ہزار ارب روپے بینکوں میں جمع ہیں۔ عوام کرنٹ اکاؤنٹ پر سود نہیں لیتے، لیکن بینک ہماری ہی رقم پر حکومت کو قرض دے کر سود وصول کرتے ہیں اور حکومت عوام پر لیوی اور ٹیکس لگا کر وہ سود ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس نظام کو عوام دشمن قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر، وزیراعظم سے ملاقات تک ملتان میں قیام کا اعلان
انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کی اور سوال کیا کہ جب بجٹ میں بھاری پیٹرولیم لیوی لگائی جا رہی تھی تو ان جماعتوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی گفتگو کا احوال بتاتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم نے ریلیف دینے کا دعویٰ کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو ریلیف دیا گیا اس سے 5 گنا زیادہ لیوی کی مد میں عوام سے جمع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے واضح کہہ دیا ہے کہ ہم احتجاج اور لانگ مارچ ختم نہیں کریں گے اور عوامی دباؤ کو مزید بڑھایا جائے گا۔ اگر حکومت نے ریلیف نہ دیا تو اکتوبر میں لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔














