امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اگلا مرحلہ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات تک ملتان میں قیام کرے گی۔ تاہم اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے اور دھرنے جاری رہیں گے۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے رابطہ کرکے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی اور جماعت اسلامی کی قیادت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ: حکومت عوام کو بڑا ریلیف پیکیج دینے کو تیار ہوگئی
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم سے ملاقات ضرور ہوگی، تاہم بات چیت شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے بعد کی جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ وزیراعظم سے ملاقات تک جماعت اسلامی کا ملتان میں دھرنا جاری رہے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حالات کچھ بھی ہوں، ان کی جماعت اپنی تحریک جاری رکھے گی اور دھرنے بھی جاری رہیں گے۔
پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ریلیف کی اقدامات ناکافی ہیں۔ انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے لیے حکومت کو کئی تجاویز پیش کیں، تاہم حکام کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ملکی وعدوں کے باعث پیٹرولیم لیوی کم نہیں کی جا سکتی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ جماعت مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے قبل حکومت سے تحریری یقین دہانیاں حاصل کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ سے قبل وفاقی وزرا کے ساتھ کئی ادوار میں ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی ملک گیر احتجاجی مہم کے باعث حکومت پر دباؤ بھی بڑھا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دیے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، بلکہ بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنا اس کا مقصد ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھتے ہوئے اپنی احتجاجی مہم بھی جاری رکھے گی۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
وزیرِ اعظم کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ، وزیرِ اعظم نے امیر جماعت اسلامی کو اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کا کہا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو ان مشکل حالات میں پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 22, 2026
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان میں اس گفتگو کی تصدیق کی گئی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت مشکل حالات میں معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ حکومت عوام کو ہر ممکن حد تک ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور بتایا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ’لانگ مارچ ہر صورت ہوگا‘، جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وزیراعظم کی بیرون ملک دورے سے واپسی کے بعد ملاقات کی جائے گی اور معاملے پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔














