اداکارہ صبا فیصل نے طلاق اور خواتین کے کردار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی خواتین طلاق کے بعد ماضی کی نسبت جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آتی ہیں، جبکہ ان کے مطابق معاشرے میں طلاق کو قبول کیے جانے کے بڑھتے رجحان سے معاشرتی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔
صبا فیصل نے منگل کو سما ٹی وی کے ٹاک شو ‘گپ شپ’ میں شرکت کے دوران شادی اور طلاق سے متعلق گفتگو کی۔ پروگرام کے میزبان وسے چوہدری نے صبا فیصل کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ خواتین کا اپنے شوہروں سے مقابلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صبا فیصل کے متنازع بیانات پر پروگرام میزبان رابعہ انعم کا موقف سامنے آگیا
اس پر صبا فیصل نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ اور بزرگ بھی ایسی باتیں کیا کرتے تھے اور وہ اس سوچ کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج کی لڑکیاں اور لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے تو یہ ان کی اپنی سوچ ہے۔
اداکارہ نے دوبارہ کہا کہ عورت مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور اس بات پر بھی تبصرہ کیا کہ ان کا یہ بیان ایک بار پھر وائرل ہوسکتا ہے۔
پروگرام میں پاکستان میں طلاق کی شرح میں اضافے اور طلاق کے بارے میں معاشرے کے بدلتے رویوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ صبا فیصل نے کہا کہ ماضی میں خاندان میں طلاق ہونے پر لوگ 2 سے 3 ماہ تک سوگ کی کیفیت میں رہتے تھے اور خاندان کے افراد پریشان ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں طلاق کے بعد والد اپنا سر نہیں اٹھا سکتا تھا جبکہ بیٹی کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی مشکل ہوتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب بعض خواتین طلاق کے بعد چھٹیوں پر چلی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید
صبا فیصل کے ان خیالات پر مضمون میں تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ خواتین کو ماضی کے مقابلے میں کم سماجی مخالفت کا سامنا کرنا مثبت پیش رفت ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستان میں طلاق آج بھی سماجی طور پر ایک حساس معاملہ ہے اور طلاق یافتہ خواتین کو معاشرے میں مختلف رویوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں طلاق کی شرح کم ہونے کی وجوہات میں سماجی دباؤ، خواتین کا مالی طور پر دوسروں پر انحصار اور قانونی نظام تک محدود رسائی بھی شامل تھیں۔
مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سی خواتین کو جسمانی، جذباتی اور مالی مسائل کا سامنا رہا، تاہم ہر خاتون کے پاس طلاق لینے کے لیے ضروری وسائل یا معاونت موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نصیب سے بڑھ کر شہرت ملتی ہے نہ فالوورز، صبا فیصل نے تنقید پر خاموشی توڑ دی
مضمون میں صبا فیصل کے خواتین کی آزادی کو معاشرتی خرابی سے جوڑنے والے مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے خیالات پاکستانی معاشرے میں خواتین کو درپیش مسائل کے تناظر میں نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔














