مکران یونیورسٹی میں نئے صوبوں کے قیام پر بحث ہوئی اور یونیورسٹی کے اعلامیے کے مطابق شرکا نے نئے صوبے کی قرارداد کی متفقہ طور پر حمایت کی جس میں نیشنل پارٹی کے پُلین بلوچ بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی بحث، کیا بلوچستان پر بھی یہی دلیل لاگو ہوتی ہے؟
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ پینل میں تو پُلین صاحب نے بڑے جوش و خروش سے نئے صوبے کی حمایت کر دی لیکن جیسے ہی یہ خبر مالک بلوچ تک پہنچی تو موصوف نے فوراً یوٹرن لے لیا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اصل کہانی یہ ہے کہ مالک بلوچ سرداری نظام کے سب سے بڑے محافظ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اگر نیا صوبہ بن گیا تو مکران کے عوام سرداروں کے چنگل سے آزاد ہو جائیں گے اس لیے پُلین بلوچ کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے ہی بیان سے مکر جائیں۔ پہلے اقرار، پھر انکار، یہی نیشنل پارٹی کا پرانا وطیرہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو یہ تمام سیاست دان کہتے ہیں کہ نئے صوبے عوامی رائے سے بننے چاہییں لیکن جب مکران یونیورسٹی نے اکثریتی رائے سے نئے صوبوں کے حق میں اعلامیہ جاری کیا تو پُلین بلوچ نے فوراً یوٹرن لے لیا۔ یہی حقیقت ہے ان تمام ’عوامی‘ لیڈروں کی جن کا اصل قبلہ ان کی پارٹی کے آقا ہیں جن کی مرضی کے بغیر یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
ایک مبصر نے کہا کہ ہم ہمیشہ سوچتے آئے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ کیا ہے لیکن پُلین بلوچ کے آج کے رویے نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ کوئی اور نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی منتخب نمائندے ہیں جو عوامی رائے اور ترجیحات کے بجائے اپنی ترجیحات اور ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔














