ایک اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال آرٹیکل دو سو بتیس کے تحت وفاقی مداخلت کی بحث کا جواز فراہم کرتی ہے تو یہی دلیل بلوچستان پر کیوں لاگو نہیں ہوتی جہاں بھی دہشت گردی اور شورش کی سنگین صورتحال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال، وفاقی مداخلت ناگزیر قرار
اس سوال کے جواب میں ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 232 دہشتگردی کے موازنے پر مبنی نہیں ہے۔ آئینی مسئلہ یہ ہے کہ آیا اندرونی خلفشار اس سطح تک پہنچ چکا ہے جو صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے۔
لہٰذا ہر صوبے کا جائزہ الگ الگ لینا ضروری ہے جس میں صوبائی حکومت کی صلاحیت، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون، وسائل کی تعیناتی اور سیکیورٹی فیصلوں پر عمل درآمد شامل ہے۔
بلوچستان کو شدید دہشتگردی کے خطرے کا سامنا ہے لیکن اس کی صوبائی حکومت نے عوامی طور پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کی حمایت کی ہے، پولیسنگ کو مضبوط کیا ہے، لیویز اہلکاروں کو پولیس کے ڈھانچے میں ضم کیا ہے اور شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
مزید پڑھیے: ایمرجنسی کن حالات میں لگائی جا سکتی ہے؟
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نہ صرف اس جنگ کی ذمہ داری لینے، انسداد دہشتگردی پالیسی اور حکمت عملی کی حمایت کرنے اور مؤثر انسداد دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ ایسا بیانیہ بنایا ہے جو دہشتگردوں کے بیانیے سے ملتا جلتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اداروں کو مضبوط کرنے میں ناکام رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے میں ناکام رہے ہیں جو دن رات یہ جنگ لڑ رہے ہیں، شہید ہیروز کے جنازوں میں شرکت کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، متاثرہ خاندانوں کو نظر انداز کیا ہے اور دہشتگردی کی مذمت کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت اور وزیر اعلیٰ اداروں کے خلاف بولنے میں ناکام نہیں ہوتے۔
اس لیے دونوں صورتحال مختلف ہیں ایک صوبے میں حکومت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ دوسرے میں حکومت ریاست کے خلاف اور ریاست کے دشمنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔














