ٹرمپ انتظامیہ کے معاونین مبینہ طور پر واشنگٹن میں واقع فورڈز تھیٹر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جو اس تاریخی ورثے میں ایک بڑی تبدیلی اور شہری تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی این این پر پابندی کے بعد بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان
انتظامیہ کے عہدیداران کے درمیان سامنے آنے والے ایک اہم پہلو نے سب کو چونکا دیا ہے، فورڈز تھیٹر وہی تھیٹر ہے جہاں سنہ 1865 میں ابراہم لنکن کو قتل کیا گیا تھا۔ اس تھیٹر کی حیثیت اور اس انتظامیہ کی جانب سے اس کے ساتھ ٹرمپ کا نام جوڑنے کے فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ تجویز گزشتہ ہفتے اس تاریخی مقام کے ذمہ دار افراد کے درمیان شدید بحث کا باعث بنی۔ یہ خیال اس وقت سامنے آیا جب معاونین نے وفاقی املاک کی فہرست ممکنہ ناموں کے حقوق کے لیے تیار کی اس کے ساتھ کینیڈی سینٹر کا نام بھی ٹرمپ سے منسوب کرنے کی کوشش جاری ہے۔
سوشل پلیٹ فارم ایکس پر صارفین نے اس حوالے سے منقسم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ہر دوسرا صدر اپنی میراث بناتا ہے یا اس کے نام پر عمارت بنتی ہے۔ وہ ایک پہلے سے موجود عمارت یا میراث پر اپنا نام لگا دیتا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں، پھر دوسری عمارت تلاش کرتا ہے کہ اسی طرح کر سکے۔
Trump Aides Explore Attaching President’s Name to Ford’s Theatre, Site of Lincoln Assassination — MS Now pic.twitter.com/i07dZCEkGL
— NewsWire (@NewsWire_US) September 23, 2026
دوسرے نے کہا کہ ٹرمپ ہمارے سابق 16ویں صدر کی ابھی تک خون آلود نشست پر بیٹھے اور اب اصرار کر رہے ہیں کہ ان کا نام میوزیم کی تختی پر شامل کیا جائے اور یہ کہ یہ سب کے لیے ایک اعزاز ہے۔
مزید پڑھیے: ’ناکام ملک‘ کیوبا نے مدد طلب کی ہے، امریکا اس سے مذاکرات کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
تیسرے نے لکھا کہ وہ لفظی طور پر اس مقام کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سب سے عظیم ریپبلکن صدر ایک شہید کے طور پر مرا، صرف اس لیے کہ وہ اپنا نام لنکن کی میراث سے جوڑ سکے۔
آن لائن ردعمل میں اس سانحے کے مقام پر ستم ظریفی کے ساتھ خود تشہیر پر تنقید بھی شامل ہے اور ایک سابق عہدیدار نے کہا کہ مشیر صدر کو خوش کرنے کے لیے یہ تجاویز پیش کرتے ہیں، انہیں مسترد کرنے کی کوئی بڑی وجہ نہیں ہوتی، اگرچہ اس مقام کے سنہ 1970 کے وفاقی نامزدگی میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ممکنہ طور پر کانگریس کی منظوری درکار ہو گی۔
فورڈز تھیٹر کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
یہ عمارت اصل میں سنہ 1833 میں واشنگٹن میں فرسٹ بپٹسٹ چرچ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی اور بعد میں سنہ 1861 میں تھیٹر کے معروف کاروباری جان ٹی فورڈ نے اسے خرید کر تھیٹر میں تبدیل کیا۔ پہلے اس کا نام فورڈز ایتھنیم رکھا جو سنہ 1862 میں آگ سے تباہ ہونے کے بعد سنہ 1863 میں فورڈز نیو تھیٹر اور پھر فورڈز تھیٹر کے نام سے دوبارہ کھولا گیا۔ اس تھیٹر کا نام اس کے مالک جان ٹی فورڈ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی کا بُھوت؟
اس تھیٹر کو عالمی شہرت 14 اپریل 1865 کو ملی جب یہاں ڈراما ’آور امریکن کزن‘ کے دوران اداکار جان ولکس بوتھ نے صدر ابراہم لنکن کو قتل کر دیا تھا۔ یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم ترین مقام ہے۔ امریکی حکومت نے اسے سنہ 1932 میں لنکن میوزیم قرار دیا، سنہ 1965 میں اسے فورڈز تھیٹر (لنکن میوزیم) کے طور پر دوبارہ نامزد کیا گیا اور 23 جون 1970 کو اسے پیٹرسن ہاؤس (جہاں لنکن کو گولی لگنے کے بعد لے جایا گیا تھا) کے ساتھ ملا کر ’فورڈز تھیٹر نیشنل ہسٹورک سائٹ‘ کا درجہ دیا گیا جو آج نیشنل پارک سروس کے زیر انتظام ہے۔














