امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو ’ناکام ملک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس سے مذاکرات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کو کیوبا پر حملے کا ‘گرین سگنل’، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لائی گئی قرارداد مسترد کردی
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے توانائی اور ایندھن کی پابندیوں کے باعث کیوبا شدید معاشی اور بجلی کے بحران کا شکار ہے۔
ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ کہ کیوبا ایک ناکام ملک ہے، وہ ہم سے مدد مانگ رہا ہے اور ہم بات چیت کریں گے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کیریبین اور لاطینی امریکا میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کیوبا حکومت کی تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کیوبا کے معاملے میں تقریباً فوری طور پر اقدامات کرے گا۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا میں مبینہ کارروائی کے بعد کیوبا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: تیل کی فروخت پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
کیوبا کئی دہائیوں سے امریکہ کی پابندیوں اور سیاسی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔ فلوریڈا کے قریب واقع یہ جزیرہ امریکا میں مقیم کیوبن جلاوطنوں کی بڑی اور بااثر کمیونٹی کا مرکز بھی ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 12, 2026
وینزویلا کی جانب سے تیل کی فراہمی بند ہونے کے بعد کیوبا کی معاشی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جبکہ ایندھن کی کمی کے باعث ملک میں بار بار بجلی کی بندش بھی ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
امریکی حکومت نے رواں ماہ کیوبا کی معیشت کے اہم شعبوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں جنہیں کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز نے اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔














