بی بی سی کے اسپورٹس نیوز بلیٹنز میں بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ، 7 صحافیوں کی نوکریاں خطرے میں

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بی بی سی اپنے نیوز چینل پر باقاعدہ اسپورٹس بلیٹنز ختم کرنے اور مزید سینیئر صحافیوں کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے کیونکہ کارپوریشن اپنی پروگرامنگ اور کوریج میں بڑی تبدیلیوں کے حصے کے طور پر سخت کٹوتیوں کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق گوگل ایگزیکٹو میٹ برٹِن بی بی سی کے نئے ڈائریکٹر جنرل مقرر

عملے کو کیے گئے اندرونی اعلانات کے مطابق، بی بی سی نیوز چینل پر نشر ہونے والے دوپہر اور رات کے بلیٹن اب نشر نہیں کیے جائیں گے۔

ان کٹوتیوں کا بنیادی مقصد بی بی سی کے سال 2028 تک 500 ملین پاؤنڈ بچانے اور 2 ہزار تک عملے کو کم کرنے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیڈولڈ اسپورٹس سے ہٹنے کو اس بات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسپورٹس نیوز کے استعمال کا طریقہ کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے سینیئر حکام کا ماننا ہے کہ بہت سے اسپورٹس شائقین بلیٹنز پر آنے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر اہم گولز اور پیشرفت دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ اس دوران کارپوریشن بھر میں مزید کٹوتیوں کا اعلان متوقع ہے جس سے عملے کے لیے ایک مشکل دور شروع ہو گیا ہے۔

ادارے نے سخت اقدامات کرتے ہوئے طویل عرصے سے جاری پروگرامنگ اور کئی اقلیتی کھیلوں کی کوریج ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس کے بعد آیا ہے جب اس نے کامن ویلتھ گیمز، بوٹ ریس، ورلڈ انڈور باؤلز چیمپیئن شپ اور رگبی لیگ ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹس کی کوریج پہلے ہی ترک کر دی تھی۔

بی بی سی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ بی بی سی کو مشکل فیصلوں اور اہم مالی چیلنجز کا سامنا ہے اور ہم سب کچھ نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیے: بی بی سی کے معروف ڈی جے اینڈی کرشا انتقال کرگئے

ادارے کا کہنا تھا کہ کچھ کھیل سمجھ بوجھ کے ساتھ اس آمدنی کو ترجیح دیں گے جس کی انہیں زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ضرورت ہے اور ہر صورتحال مختلف ہے۔ لیکن فری ٹو ایئر نشریات جو قدر، نمائش اور پیمانہ فراہم کر سکتی ہے وہ ایسی چیز ہے جس پر ہمیں بے حد فخر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp