نئے صوبے بنانے سے پہلے سیاسی و انتظامی معاملات اور منصفانہ تقسیم پر بات ہونی چاہیے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق معاملات پر بات چیت ہونی چاہیے، تاہم نئے صوبوں کا قیام ایک طویل اور وقت طلب عمل ہے جس میں انتظامی و سیاسی امور سمیت ممکنہ ردعمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہاکہ محسن نقوی کا مؤقف اس بات پر مبنی ہے کہ تمام شہریوں کو برابر حقوق ملنے چاہییں۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامی بندوبست میں ہر شہری کو اس کے حقوق اور وسائل نہیں مل رہے، تاہم یہ مؤقف کس حد تک درست ہے، اس پر بات چیت ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:اختیارات کی منتقلی کے ساتھ وسائل اور جواب دہی کا توازن ضروری ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی

انہوں نے کہاکہ اگر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے لیے بہت سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔ اس عمل میں انتظامی اور سیاسی عہدوں، انتظامات، سیاسی جماعتوں کے فیصلوں اور سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد جیسے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ فیصلہ ایک دن میں نہیں ہوسکتا بلکہ اس کی تفصیلات طے کرنے میں کافی وقت لگے گا۔

ملک محمد احمد خان نے کہاکہ یہ قیادت کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ قیادت کسی معاملے پر الجھن کا شکار نہیں ہوتی بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے میں وقت لیتی ہے، اور نئے صوبوں کا معاملہ بھی ایسا نہیں جس پر عجلت میں فیصلہ کیا جائے۔

’9 مئی کے واقعات سیاست نہیں، سنگین جرائم ہیں‘

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور ممکنہ احتجاج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایک سیاسی جماعت کے قائد پر مقدمات ہیں، جنہیں وہ سیاسی مقدمات قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے خیال میں یہ جرائم ہیں۔ ان کے مطابق پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ معاملہ جرم ہے یا سیاست، اس کے بعد ہی آگے بات ہوسکتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی کے گھر کو جلانا، ایک ہی دن میں 29 چھاؤنیوں پر حملہ کرنا، کور کمانڈر کا گھر جلانا، قلعہ بالاحصار کو آگ لگانا اور ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو نقصان پہنچانا کیا سیاست ہے؟

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ ریڈیو پاکستان پشاور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا آرکائیو تھا، جسے نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح میانوالی، سرگودھا اور شہدا کے مجسمے جلانا اور پاکستان کے پرچم کو آگ لگانا بھی سیاست نہیں بلکہ پاکستان پینل کوڈ میں درج جرائم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور اس کے نتیجے میں شہری آبادی کو نقصان پہنچا، دو یا تین شہری شہید ہوئے اور ایک مدرسے کی عمارت متاثر ہوئی تو پاکستان نے 8 رافیل طیارے گرائے اور اسے اپنے اوپر حملہ تصور کیا۔

ان کے مطابق اگر 29 چھاؤنیوں پر حملہ ہو، اس میں بیرونی ہاتھ، دہشت گرد یا غیر ملکی عناصر شامل ہوں اور وہ ہجوم کا حصہ بن کر کارروائی کریں تو یہ جاسوسی کے زمرے میں آنے والا معاملہ ہے، جس پر مزید مقدمات اور خصوصی رپورٹس ہونی چاہییں۔

ملک محمد احمد خان نے کہاکہ وہ یہ فیصلہ کرنے والے نہیں کہ کسی کو کتنی سزا ملنی چاہیے، کیونکہ اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ تاہم اگر انہیں عدالت میں مقدمہ لڑنا ہو تو وہ ہر جج کے سامنے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے سنگین جرائم پہلے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہاکہ کسی غریب آدمی کی جھونپڑی جلانے پر بھی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 436 کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے اور اس کی ضمانت آسانی سے نہیں ہوتی، تو پھر پورے پاکستان کو جلانے کے واقعات میں بھی عدالتوں کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بنائے گئے ہائی جیکنگ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ مقدمہ عدالت میں چلا، اس پر فیصلہ آیا اور پھر اپیل کے مرحلے میں ہر نکتے پر تفصیلی بحث ہوئی، جس کے بعد معاملے کے تمام پہلو طے کیے گئے۔

’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر بوجھ بڑھا ہے‘

ملک محمد احمد خان نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے حوالے سے کہاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ان کے بقول اگر وہ سرکاری وسائل استعمال کریں تو بھی انہیں اس کا بوجھ محسوس ہوتا ہے اور اگر اپنی جیب سے اخراجات کریں تو یہ بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے وہ دو یا تین گاڑیاں استعمال کرتے تھے، تاہم اب کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ تر کام ایک ہی گاڑی میں ہوجائے اور غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بہت بڑا خرچ ہے اور عوام میں اسے برداشت کرنے کی گنجائش نہیں۔ جنگ کی صورت حال کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے ریلیف سے بعض طبقات کو سہولت ضرور ملے گی، لیکن مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مہنگائی بھی بڑھتی ہے، جس سے عوام کو تکلیف کا سامنا ہے۔

’اسلام آباد پر حملہ آور جتھوں کی سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘

27 ستمبر کے احتجاج اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آنے اور دارالحکومت کو ’سومنات‘ بنانے کے بیان سے متعلق سوال پر ملک محمد احمد خان نے کہاکہ ناعاقبت اندیشی کے نتیجے میں ایسے جرائم ہو رہے ہیں جن کی سزا آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔

انہوں نے کہاکہ انہیں یاد ہے کہ پرویز خٹک پہلی مرتبہ جتھا لے کر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تھے اور اٹک پل پر انہیں روکا گیا تھا۔ اس وقت شہباز شریف وزیراعلیٰ اور مشتاق سکھیرا آئی جی پنجاب تھے۔ خیبر پختونخوا سے آنے والے افراد کو پنجاب پولیس نے صف بندی کرکے روکا تھا، جبکہ مظاہرین نے پولیس کی صفیں توڑنے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں باقاعدہ لڑائی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔

ملک محمد احمد خان نے کہاکہ اس وقت وہ سوچ رہے تھے کہ کیا وہ کسی ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں کوئی دارالحکومت پر حملہ کرنے آرہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انتخابات کو درست نہیں مانا گیا، اس لیے دارالحکومت پر چڑھائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی انہوں نے دو مزید حملے دیکھے، جب محمود خان اپنی پوری کابینہ اور لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آئے، پھر علی امین گنڈاپور بھی آئے اور اب سہیل آفریدی آرہے ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ اگر یہ جتھہ بندی اور حملے صرف عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر ہورہے ہوتے تو پھر بھی اس پر بحث کی جاسکتی تھی، لیکن انتخابات کے تنازع، سپریم کورٹ میں پٹیشن منظور ہونے اور دیگر معاملات پر بھی بار بار ایسی کارروائیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر کسی نے اپنے آپ کو سومنات سے تشبیہ دی ہے تو اس کے پیچھے موجود سوچ کو وہ نہیں جانتے، تاہم اس طرز عمل کے نتائج آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات پاکستان کی وحدانیت کو کمزور کررہے ہیں اور ایک ایسے عمل کو بار بار دہرایا جارہا ہے جسے معمول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی سیاسی جماعت کو فوج کے بارے میں نازیبا بات کرنے کا حق نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان

ملک محمد احمد خان نے خبردار کیاکہ اگر جتھہ بندی اور حملوں کو سیاست تسلیم کرلیا گیا تو مستقبل میں نجی ملیشیاز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ کل کو کوئی جماعت خاکی وردی یا ملیشیا کی وردی پہن کر نکل سکتی ہے، اس لیے ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ 6 سے 8 مرتبہ حملوں کا ایک ہی عمل دہرانا اور مسلح جتھوں کو دارالحکومت میں لاکر کارروائی کرنا کسی صورت سیاسی طریقہ نہیں ہوسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp