برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا مشتبہ بم ملنے پر 300 سے زائد گھر خالی کرا لیے گئے

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے شہر فالمتھ میں ڈاک یارڈ کے قریب پانی سے دوسری جنگ عظیم کے زمانے کا مشتبہ بم ملنے کے 2 روز بعد 300 سے زائد گھروں کو خالی کرا لیا گیا۔

حکام کے مطابق پیر کے روز فالمتھ ڈاکس کے قریب پانی میں تقریباً 250 کلوگرام وزنی امریکی بم کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کردیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے ڈینیوب میں پانی کم ہوا تو دوسری جنگ عظیم کا خوفناک راز سامنے آگیا

ڈیوون اور کارنوال پولیس اور کارنوال کونسل نے جائے وقوعہ کے گرد تقریباً 750 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا ہے اور اس علاقے میں رہنے والے شہریوں سے اپنے گھر خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔

بم ڈسپوزل ماہرین پر مشتمل ٹیم مشتبہ بم کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ کونسل کے عملے اور رضاکار گھر گھر جاکر لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے میں مدد دے رہے ہیں۔

متاثرہ افراد کے لیے کِلی گریو اسٹریٹ کے آل سینٹس چرچ میں عارضی استقبالی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔

حکام نے شہریوں کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں علاقے سے دور رہنے اور ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

مشتبہ بم کی دریافت کے بعد ابتدائی طور پر زمین اور سمندر میں 150 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا تھا۔ حکام نے آج کے لیے اسے ابتدائی طور پر 1400 میٹر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم بعد میں حفاظتی حصار کم کرکے تقریباً 755 میٹر کردیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے بموں کا ملنا ماضی میں بھی شہری زندگی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو متاثر کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: دوسری جنگ عظیم کا 500 کلوگرام وزنی بم تباہ کردیا گیا

مارچ 2025 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شمالی علاقے سینٹ ڈینس میں تعمیراتی کام کے دوران دوسری جنگ عظیم کا نہ پھٹنے والا بم ملا تھا، جس کے باعث گارے دو نور اسٹیشن سے آنے اور جانے والی ٹرین سروس شدید متاثر ہوئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بم گارے دو نور اسٹیشن سے تقریباً 2.5 کلومیٹر دور پٹریوں کے درمیان ملا تھا اور بم ناکارہ بنانے کا عمل مکمل ہونے تک ٹرینوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ یورو اسٹار سمیت قومی اور بین الاقوامی ٹرین سروسز بھی متاثر ہوئی تھیں۔

مشتبہ بم کی دریافت کے بعد فالمتھ میں ابتدائی طور پر زمین اور سمندر میں 150 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا تھا۔ حکام نے بعد میں اسے بڑھا کر 1400 میٹر کرنے کا منصوبہ بنایا، تاہم بعد میں حفاظتی حصار کم کرکے تقریباً 755 میٹر کردیا گیا۔

دوسری طرف برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران گرائے گئے بم کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود شہری زندگی کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ فروری 2024 میں بھی برطانیہ کے شہر پلائی ماؤتھ میں ایک گھر کے عقب سے دوسری جنگ عظیم کے دور کا 500 کلوگرام وزنی بم برآمد ہوا تھا، جسے فوجی قافلے کے ذریعے منتقل کرکے سمندر میں تباہ کردیا گیا تھا۔

اس بم کی دریافت کے بعد پلائی ماؤتھ میں 10 ہزار سے زائد شہریوں کو گھروں سے انخلا کی ہدایت کی گئی تھی، جو برطانیہ کی تاریخ میں امن کے زمانے میں شہریوں کا سب سے بڑا انخلا قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دوسری جنگ عظیم کے بم کی دریافت سے پیرس میں ٹرین سروس متاثر

500 کلوگرام وزنی بم پلائی ماؤتھ کے سینٹ مائیکل ایونیو میں ایک گھر کے عقبی لان میں اس وقت دریافت ہوا تھا جب ایک شہری اپنی بیٹی کے گھر کی توسیع کے کام میں مدد کررہا تھا۔ برطانوی وزارت دفاع کے مطابق ایس سی 500 قسم کا یہ بم دوسری جنگ عظیم کے دوران طیارے سے زمین پر گرایا گیا تھا۔

پلائی ماؤتھ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے ان شہروں میں شامل تھا جہاں سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ مقامی حکام کے مطابق جنگ کے دوران شہر میں 59 الگ الگ فضائی حملوں میں 1174 شہری ہلاک، تقریباً 3800 مکانات تباہ اور 18 ہزار عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اس سے ایک سال قبل بھی برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا 250 کلوگرام وزنی بم ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے سے پھٹ گیا تھا، تاہم پیشگی حفاظتی اقدامات کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

مارچ 2025 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی دوسری جنگ عظیم کا ایک ناکارہ بم تعمیراتی کام کے دوران دریافت ہوا تھا، جس کے باعث پیرس کے گار دو نور اسٹیشن سے ٹرین سروس متاثر ہوئی تھی۔

بم سینٹ ڈینس کے علاقے میں پٹریوں کے درمیان ملا تھا اور اسے گار دو نور سے تقریباً 2.5 کلومیٹر دور بتایا گیا تھا۔ بم ناکارہ بنانے کی کارروائی مکمل ہونے تک مسافر، قومی اور بین الاقوامی ٹرین سروس متاثر رہی جبکہ یورو اسٹار نے گار دو نور سے آنے اور جانے والی تمام ٹرینیں منسوخ کردی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp