یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث ڈینیوب دریا میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہوئی تو اس کی تہہ میں چھپی دوسری جنگ عظیم کی ایک حیران کن یادگار دوبارہ منظرِ عام پر آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: دوسری جنگ عظیم کے بم کی دریافت سے پیرس میں ٹرین سروس متاثر
مشرقی سربیا کے علاقے پراہوو کے قریب دریا میں پانی کم ہونے کے بعد کم از کم 20 جرمن جنگی جہازوں کے ملبے دکھائی دینے لگے ہیں۔ زنگ آلود جہازوں کے ڈھانچے، ٹوٹے ہوئے مستول اور دیگر باقیات اب دریا کے کنارے سے بھی نظر آ رہی ہیں۔
یہ جہاز دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کا حصہ تھے جنہیں جرمن فوج نے سنہ 1944 میں جان بوجھ کر ڈینیوب میں ڈبو دیا تھا تاکہ انہیں سوویت فوج کے ہاتھ لگنے سے روکا جاسکے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ خشک سالی کے دوران یہ جہاز پانی سے باہر آئے ہوں تاہم رواں موسم گرما میں شدید گرمی اور خشک سالی نے ایک ساتھ بڑی تعداد میں ان ملبوں کو نمایاں کردیا ہے۔
82 سال پہلے ڈینیوب میں کیا ہوا تھا؟
ان جہازوں کی کہانی 80 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ سنہ 1944 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت فوج مشرقی محاذ پر تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی جبکہ جرمن فوج مسلسل پسپا ہو رہی تھی۔
مزید پڑھیے: برطانیہ: دوسری جنگ عظیم کا 500 کلوگرام وزنی بم تباہ کردیا گیا
بحیرہ اسود سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 جرمن بحری جہاز ایسے علاقے میں پھنس گئے تھے جہاں سوویت فوج کا کنٹرول تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ ڈینیوب ان کے لیے فرار کا ایک ممکنہ راستہ تھا لیکن دریا کا ’آئرن گیٹس‘ کے نام سے مشہور تنگ اور خطرناک حصہ جہازوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن گیا۔
ستمبر 1944 میں جرمن ریئر ایڈمرل پال ولی زیِب نے سوویت فوج کے قریب پہنچنے پر 200 سے زیادہ بحری جہازوں کو جان بوجھ کر ڈبونے کا حکم دیا۔ مقصد جہازوں کو دشمن کے قبضے میں جانے سے روکنا اور سوویت فوج کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
زیادہ تر جہاز اس کے بعد کئی دہائیوں تک دریا کی تہہ میں ہی دبے رہے۔
جہازوں میں اب بھی دھماکا خیز مواد موجود ہونے کا خدشہ
ان ملبوں کو صرف تاریخی باقیات سمجھنا محفوظ نہیں۔ حکام کے مطابق بعض جہازوں میں اب بھی گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد موجود ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی وجہ سے یہ ملبہ کشتی رانی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ سربیا نے دریا کی تہہ سے بعض جہازوں کو نکالنے کے لیے تقریباً 3 کروڑ یورو کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے تاہم دریا کی تہہ کو محفوظ طریقے سے صاف کرنا انتہائی پیچیدہ کام ہے اور اس میں پیشرفت سست رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے پہلی جنگ عظیم کے سپاہی کی ڈائری کو فلم میں بدل دیا، طلبہ کا منفرد کارنامہ
رواں موسم گرما میں ظاہر ہونے والے ملبوں کے قریب جانے کے بجائے انہیں محفوظ فاصلے سے دیکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ پانی کی سطح دوبارہ بڑھنے یا مزید کم ہونے کے ساتھ ان کی حالت اور نمایاں ہونے کی جگہ بھی بدل سکتی ہے۔
دریا اور بھی راز دکھا رہا ہے
ڈینیوب کی گرتی ہوئی سطح نے صرف دوسری جنگ عظیم کے جہازوں کو ہی ظاہر نہیں کیا بلکہ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والی کئی دوسری باقیات بھی سامنے آگئی ہیں۔
ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں پانی کم ہونے سے جرمن فوج کی ایک پرانی موٹرسائیکل بھی سامنے آئی جبکہ سلوواکیہ کے علاقے ویرٹ کے قریب برطانوی ساختہ تقریباً 700 کلوگرام وزنی بم ملا جسے بعد میں ماہرین نے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔
بلغاریہ کے علاقے گیگن میں پانی کم ہونے سے قدیم قسطنطین پل کے آثار بھی نمایاں ہوگئے جبکہ ریاحوو کے قریب ماہرین نے ہزاروں سال پرانے اونی ہاتھی یعنی وولی میمتھ کے دانت اور ہڈیوں کے آثار دریافت کیے۔
یہ بھی پڑھیے: جرمنی کے ہاتھوں ڈنمارک اور ناروے کی فتح: دوسری جنگِ عظیم کی اہم پیش قدمی
ماہرین آثار قدیمہ کے لیے دریا کی اس عارضی تبدیلی کو ایک نادر موقع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عام حالات میں یہ تاریخی باقیات پانی کے نیچے چھپی رہتی ہیں۔
ڈینیوب کی تہہ میں صرف ماضی نہیں، پوری یورپی تاریخ
ڈینیوب یورپ کا دوسرا سب سے طویل دریا ہے اور تقریباً 2,850 کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے 10 ممالک سے گزرتا ہے۔
اس دریا کے کنارے مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال، جنگوں، سیاسی تبدیلیوں، آمریت اور کمیونزم سمیت یورپ کی تاریخ کے کئی اہم ادوار گزرے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ڈینیوب پر سفر کرنے والے بعض سیاحوں کے لیے یہ تجربہ غیر معمولی رہا کہ وہ دریا کی سطح کے نیچے موجود جنگی تاریخ کے اتنے قریب سے گزر رہے تھے۔
ایک سیاح نے بتایا کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ براہِ راست ان جرمن جنگی جہازوں کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تجربہ حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک دل گرفتہ کرنے والا بھی تھا۔
شدید گرمی نے دریا کا سفر بھی متاثر کردیا
ڈینیوب میں پانی کی کمی صرف تاریخی باقیات سامنے آنے تک محدود نہیں۔ کم پانی کے باعث دریائی سیاحت بھی متاثر ہوئی ہے۔
اس موسم گرما میں بعض کروز کمپنیوں کو اپنے سفر منسوخ کرنا پڑے، کچھ کو راستے تبدیل کرنا پڑے جبکہ بعض مقامات پر مسافروں کو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کرنا پڑا۔ ایسے حصوں میں جہاں پانی کی سطح جہازوں کے لیے بہت کم ہوگئی وہاں سے مسافروں کو بسوں کے ذریعے زمینی راستے سے آگے لے جایا گیا۔
یعنی جس خشک سالی نے ڈینیوب کے نیچے چھپی تاریخ کو دنیا کے سامنے لایا اسی نے آج کے مسافروں کے لیے اس دریا پر سفر کو بھی مشکل بنا دیا۔
یورپ کی بڑھتی گرمی کا ایک اور اشارہ؟
یورپی یونین کی کوپرنیکس موسمیاتی سروس کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے اور یہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے دگنی سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت شدید گرمی کی لہروں کو مزید طاقتور بنا رہا ہے اور بارشوں کے معمول میں تبدیلی بھی لا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے کے واقعات بار بار سامنے آسکتے ہیں۔
ڈینیوب کی موجودہ صورتحال میں ایک عجیب تضاد بھی نظر آتا ہے کہ ماضی کی جنگ کی باقیات پانی کم ہونے سے سامنے آرہی ہیں جبکہ یہی غیر معمولی موسمی صورتحال مستقبل کے بارے میں بھی ایک انتباہ دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: دورہ روس: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا دوسری جنگ عظیم کے شہدا کو خراج عقیدت
ایک سیاحتی ماہر کے الفاظ میں ڈینیوب صرف مسافروں کو یورپ کے مختلف ممالک سے نہیں گزار رہا بلکہ وہ انہیں بیک وقت یورپ کی تاریخ اور بدلتے ہوئے مستقبل سے بھی روشناس کرا رہا ہے۔














