وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے نومنتخب صدر ڈاکٹر نجیب نقی کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائے گی اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے نئی جامع پالیسی لائی جا رہی ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم افتخار گیلانی نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو ریاست کا نیا صدر منتخب ہونے پر شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ کا بیٹا صدر منتخب ہونے پر اہلیانِ پونچھ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شاہ غلام قادر کا وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی پر اعتماد کا اظہار، ساتھ چلنے کی یقین دہانی
وزیراعظم نے اس اہم سیاسی فیصلے پر مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وفاقی وزرا امیر مقام، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور پوری پارلیمانی پارٹی کی معاونت کو بھی سراہا۔
سیاسی رواداری اور ترقیاتی وژن
ایوان میں پراعتماد انداز میں گفتگو کرتے ہوئے افتخار گیلانی نے سیاسی رواداری کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنائے گی، ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے کیونکہ قانون ساز اسمبلی کو مضبوط بنانا اور اس کی حرمت برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک نئی اور مؤثر پالیسی متعارف کروا رہی ہے۔ ماضی کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کھلے دل سے تسلیم کیا کہ آج آزاد کشمیر جس ترقیاتی مقام پر کھڑا ہے، اس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کا کلیدی کردار ہے اور حکومت ان سب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کی خدمات کا اعتراف
نومنتخب صدر کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب نقی اور ان کے خاندان کی پونچھ سمیت پورے آزاد کشمیر کے لیے بے شمار خدمات ہیں۔
ان کا صدر منتخب ہونا اس خطے کے لیے ’ٹھنڈی ہوا‘ کے جھونکے کی مانند ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر اور ریاستی معاملات پر ڈاکٹر نجیب نقی گہری اور بہترین نظر رکھتے ہیں۔
انتظامی معاملات، نامکمل اسمبلی اور ایجوکیشن پیکیج
اسمبلی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے افتخار گیلانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ پونچھ کے 7 حلقوں میں تاحال انتخابات نہیں ہو سکے، جس کے باعث یہ ایوان ابھی نامکمل ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہاں انتخابی عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
گڈ گورننس کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے اب تک انتظامی سطح پر کوئی اکھاڑ پچھاڑ یا تبادلے نہیں کیے اور سابق حکومت کے دور میں تعینات ہونے والے افسران ہی بدستور کام کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں زیرِ بحث رہنے والے ایجوکیشن پیکیج کے حوالے سے وزیراعظم نے ایوان کو بریفنگ دی کہ اس پیکیج پر سامنے آنے والے عوامی اور سیاسی اعتراضات کو دور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، تاکہ نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے سے فیصلے کیے جا سکیں۔














