پشاور کے علاقے گڑھی شیرداد، ورسک روڈ پر جمعرات کو سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کانسٹیبل آفاق شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے اور 2 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور، سی ٹی ڈی تھانے میں شارٹ سرکٹ سے دھماکا، ایک اہلکار جاں بحق، ایک زخمی
زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں آپریشن جاری رہا۔
کانسٹیبل افاق کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی عام شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور عوامی امن کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
اہلکاروں کی یہ قربانیاں ریاست کے اس غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہیں کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور دہشتگردوں کو عوامی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے روکا جائے گا۔
اہلکاروں کا نقصان ریاست کے عزم کو کمزور نہیں کرتا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ دہشتگردی کے خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیے: پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 دہشتگرد ہلاک
پرامن معاشرے میں دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق مربوط کارروائیوں کے ذریعے ہر دہشتگرد خطرے کا پیچھا کرتے ہوئے اسے بے اثر کرنے کے لیے مزید چوکسی اور عزم کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔














