کائنات کے ارتقا کے راز جاننے کے لیے ناسا کی نئی دوربین 2033 میں خلا میں بھیجنے کا ہدف

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کائنات کی تاریخ اور ارتقا کا جائزہ لینے والی نئی دوربین ‘پریما’ کو ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل کردیا، جسے 2033 میں خلا میں بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

‘پریما’ ناسا کے فلکیاتی طبیعیات کے نئے مشنز کی قسم ‘پروب ایکسپلوررز’ کا پہلا مشن ہے اور یہ ناسا کے ایکسپلوررز پروگرام کا حصہ ہے۔ دوربین دور اورکت شعاعوں کے ذریعے کائنات کا مشاہدہ کرے گی تاکہ کائنات کے ارتقا، سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں اور بلیک ہولز کی تشکیل سے متعلق اہم سوالات کے جوابات تلاش کیے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت ناسا کے موسمیاتی ڈیٹا کو استعمال کر کے شدید موسم کی پیشگوئی بہتر بنا رہی ہے

ناسا کے مطابق ‘پریما’ موجودہ اورکت دوربینوں، بشمول جیمز ویب خلائی دوربین، اور ریڈیو دوربینوں کے درمیان مشاہداتی خلا کو پُر کرے گی اور کائنات کا زیادہ وسیع منظر فراہم کرے گی۔

ناسا کے شعبہ فلکیات کے ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے کہا کہ کوئی ایک مشن کائنات کے تمام رازوں کا جائزہ نہیں لے سکتا، تاہم ‘پریما’ کے ذریعے ناسا کی دور اورکت شعاعوں میں مشاہدے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جس سے کائنات کا زیادہ جامع جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

‘پریما’ مشن اب مرحلہ بی میں داخل ہوگیا ہے، جس میں مشن کے ابتدائی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کیا جائے گا۔ مرحلہ سی میں مکمل عمل درآمد سے قبل مشن کی تکنیکی، پروگرام اور لاگت سے متعلق کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

ناسا کے مطابق مشن کی منظوری کی صورت میں منصوبے کی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک محدود ہوگی، جس میں لانچ کے اخراجات شامل نہیں ہوں گے، جبکہ اسے 2033 میں خلا میں بھیجنے کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی طاقتور نئی خلائی دوربین خلا میں روانہ، کائنات کے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کا مشن

ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس نے کہا کہ ‘پریما’ انسانیت کیلئے گہری کائنات کی جانب ایک نئی کھڑکی ہے، جو کائناتی تاریخ کے ان پہلوؤں کو سامنے لائے گی جنہیں سمجھنے سے سیاروں، ستاروں اور بلیک ہولز کی تشکیل کے ساتھ زمین پر پانی کی آمد کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

‘پریما’ کے اہم مقاصد میں نظام شمسی سے باہر سیاروں کی تشکیل کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ دوربین بلیک ہولز اور کہکشاؤں کی تشکیل اور ارتقا کے ساتھ ساتھ کائنات میں گردوغبار اور بھاری عناصر کے جمع ہونے کا بھی مطالعہ کرے گی۔

ناسا کے مطابق دور اورکت شعاعوں میں مشاہدات کے ذریعے ‘پریما’ ایسے سرد مادے اور ایسے خطوں کا جائزہ لے سکے گی جو دوسری اقسام کی دوربینوں سے براہ راست دیکھنا مشکل ہیں۔ اس مشاہدے سے سائنس دانوں کو سیاروں کی تشکیل اور کائناتی مادے کی ابتدا سمیت زمین پر موجود پانی کے ممکنہ کائناتی ماخذ کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp