آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی مال بردار جہازوں کی تعداد میں ایک بار پھر کمی ہوئی ہے اور جمعرات کو صرف 9 جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 14 تھی۔
رائٹرز کے مطابق شپ ٹریکنگ کمپنی کیلپر کے ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو گزرنے والے 9 جہازوں میں سے 8 آبنائے ہرمز سے باہر نکلے، جبکہ صرف ایک جہاز آبنائے میں داخل ہوا۔ گزشتہ 10 روز کے دوران روزانہ جہازوں کی اوسط آمدورفت 18 رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 8 باہر نکلنے والے جہازوں میں ایک بہت بڑا گیس بردار جہاز خالی حالت میں تھا، جبکہ ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز تیل سے لدا ہوا تھا۔ دیگر جہازوں میں مختلف سائز کے تیل بردار اور مال بردار جہاز شامل تھے۔
Vessel transits at the Strait of Hormuz fell on Thursday to nine, compared with the previous day’s 14, preliminary shiptracking data shows. pic.twitter.com/eka60Qq7Ew
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 25, 2026
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے سفر کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہوتے۔
رائٹرز کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں تیل بردار، گیس بردار، مال بردار اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ یہ راستہ دنیا کی روزانہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد کا اہم راستہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟
دوسری جانب آبنائے باب المندب میں جہازوں کی آمدورفت جمعرات کو بدھ کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہی۔ کیلپر کے مطابق 26 جہاز باب المندب سے گزرے، جن میں 12 اندر داخل ہوئے جبکہ 14 باہر نکلے۔
رپورٹ کے مطابق باب المندب سے گزرنے والے جہازوں میں ایک خام تیل بردار بہت بڑا جہاز بھی شامل تھا، جو عراق کی بصرہ بندرگاہ سے خام تیل لے کر مصر جا رہا تھا۔










