وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم : 58 لاکھ افراد رجسٹرڈ، 61 لاکھ ٹوکن جاری ہوچکے، شزہ فاطمہ

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کے تحت 58 لاکھ افراد رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ 61 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے لوگ فیول ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ہر صوبے کے اعداد و شمار بھی آرہے ہیں کہ کس کس صوبے سے لوگ آرہے ہیں اور ٹوکن استعمال کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیول ریلیف اسکیم، ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہورہی ہیں، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑرہا ہے۔ اس مشکل صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے سبسڈی کے حوالے سے جو اسکیم شروع کی تھی، اس کا کامیابی سے اجرا ہوچکا ہے اور یہ جاری ہے۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ 2 وہیلر، 3 وہیلر یعنی تمام موٹر سائیکلیں، رکشے، چنچیاں اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں اسکیم کا حصہ ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشے اور چنچی کے صارفین اگر ان کے مالک نہ بھی ہوں اور صرف استعمال کرتے ہوں تو اپنے رجسٹرڈ فون نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے ایک بار رجسٹریشن کراکے اس موٹر سائیکل یا رکشے پر یہ سہولت حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے مالکان اسکیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل، رکشے اور چنچی کے لیے 500 روپے کا ٹوکن ہفتے میں ایک بار ملتا ہے۔ اب اس پر 5 لیٹر کی پابندی نہیں ہے، جتنا بھی پٹرول ڈلوایا جائے گا، اس پر 500 روپے کی رعایت ملے گی۔ گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے 10 لیٹر پر ہر ٹوکن کے ذریعے رعایت دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کا مقصد مشکل صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔ پوری کابینہ نے اس سلسلے میں تعاون کیا جبکہ نائب وزیراعظم اس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت کررہے ہیں اور حمزہ شہباز بھی اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم، تمام فعال پیٹرول پمپس کو نظام میں شامل کرنے کی ہدایت

شزہ فاطمہ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے ایک اجلاس کیا اور مزید اجلاس بھی کررہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ زمینی سطح پر پیٹرول اسٹیشنز پر شہریوں کو کسی قسم کی دقت تو نہیں۔ انہوں نے پیٹرول پمپ مالکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان سے گزارش ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو رجسٹریشن کرانے میں مدد کریں اور انہیں اسکیم کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ پوری قوم مل کر اس مشکل سے نکل سکے اور یہ سہولت سب سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ 58 لاکھ افراد اب تک رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ 61 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ 8 دنوں کے اندر اسکیم کو چلانا ایک مشکل کام تھا، تاہم اوگرا، اسٹیٹ بینک، پٹرولیم ڈویژن، وزارت خزانہ، وزیراعظم آفس اور دیگر اداروں نے مل کر اسے ممکن بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تکنیکی، انتظامی اور آگاہی کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا، سب ادارے مل جل کر اسکیم پر کام کررہے ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کو تقریباً ہر 4 گھنٹے بعد اسکیم کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے اور وہ مسلسل متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔ عوامی شکایات اور رائے کی بنیاد پر اسکیم میں بہتری لائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو ایک وقت میں 5 لیٹر سے زیادہ پٹرول حاصل کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی، وزیراعظم نے یہ پابندی ختم کردی۔ اسی طرح ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کے لیے جو پیسے خرچ ہورہے تھے، وہ بھی مفت کردیئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا اہم فیصلہ، 20 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور رکشے بھی فیول ریلیف اسکیم میں شامل

وفاقی وزیر نے کہا کہ شہری اپنی شکایات 9771 پر فون کرکے درج کراسکتے ہیں تاکہ ان کی سہولت کے لیے مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جاسکے۔

انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی انتظامیہ نے پیٹرول پمپس کی سطح پر اسکیم کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ تقریباً 3 اجلاس ہوتے ہیں جن میں متعلقہ حکام شریک ہوتے ہیں اور پروگرام کی نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ حکومتی ٹیمیں زمینی سطح پر بھی موجود ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ انہوں نے خود بھی مختلف پیٹرول اسٹیشنز کا دورہ کیا اور جہاں لوگوں کو مسائل کا سامنا تھا، وہاں صورتحال کا جائزہ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیش بورڈ پر اسکیم کی براہ راست نگرانی کی جارہی ہے، جہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس پیٹرول پمپ پر کتنا پٹرول استعمال ہورہا ہے اور کون کون اس وقت اسکیم سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ اسکیم کی کوریج کی تفصیلات بھی براہ راست دستیاب ہیں جبکہ جی آئی ایس نقشے کے ذریعے تمام پیٹرول اسٹیشنز کی نگرانی کی جارہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر نے بھی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 2 روز اپنے حلقے کی تینوں تحصیلوں میں تقریباً ہر پیٹرول پمپ کا دورہ کیا اور اسکیم کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کے دوران انہیں بھی بہت کچھ سیکھنے اور دیکھنے کا موقع ملا، جس کی بنیاد پر وہ عوام تک اسکیم کے حوالے سے اہم پیغامات پہنچانا چاہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp