بلوچستان حکومت کی یقین دہانی پر کسان اتحاد کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ملتوی

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کسان اتحاد نے بلوچستان حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی اور درخواست پر کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب جمعہ کے روز شروع ہونے والا مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنا ملتوی کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی اور کسان رہنماؤں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ملکی حالات اور امن و امان کے خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

مشیر برائے امورِ داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق صوبائی وزیر علی مدد جتک کی قیادت میں ایک سرکاری وفد نے کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد باٹھ سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل بھی موجود تھے۔ مذاکراتی نشست کے دوران سرکاری وفد نے کسان رہنما کو ان کے تمام جائز تحفظات اور زرعی شعبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیے کسان اونے پونے فصل بیچنے پر مجبور، گندم کے موجودہ بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

بابر یوسفزئی نے بتایا کہ کسان اتحاد کے صدر خالد باٹھ نے حکومت کی درخواست اور ضمانت کو قبول کرتے ہوئے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور حکومتی وفد کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان اتحاد نے ملک کی موجودہ کیفیات اور امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر اپنا احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشیر داخلہ کے مطابق بلوچستان حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان یہ مذاکرات پیش رفت کی سمت ایک اہم قدم ہیں اور صوبائی حکومت کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

پریس کانفرنس اور کسانوں کے مطالبات

اس سے قبل، حکومتی وفد سے ملاقات اور احتجاج ملتوی کرنے کے اعلان سے پہلے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد باٹھ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے استعفے اور کاشتکاروں و زمینداروں کے دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے کسانوں کے قافلے اس مارچ کا حصہ بننے کے لیے تیار تھے تاکہ زرعی شعبے کی زبوں حالی اور کسانوں کے درپیش مسائل پر آواز اٹھائی جا سکے۔ خالد باٹھ نے کہا کہ کسان اپنے حقوق کے لیے ملک گیر مہم چلائیں گے اور جب تک زراعت کو درپیش بحران کا حل نہیں نکلتا، ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

کسان رہنما نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زرعی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان ملک میں خوراک کی فراہمی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن گزشتہ 3 سالوں سے غلط پالیسیوں کے باعث یہ شعبہ شدید زوال کا شکار ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم آمدن طبقے کا جینا دوبھر کر دیا ہے، جبکہ زرعی شعبے کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتیں بڑھنے کے خلاف کسان اتحاد لانگ مارچ کرے گا؟

خالد باٹھ نے مزید کہا کہ کسان کی خوشحالی ہی بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بیوروکریسی کسانوں کی مشکلات سے بالکل ناواقف ہے اور ان کے فیصلے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے اپیل کی کہ وہ صوبے میں زرعی ایمرجنسی نافذ کریں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر زراعت کو فوقیت دیں۔ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ صوبے میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز اپنے دفاتر تک پہنچنے سے بھی قاصر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp