روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی اتحادی رمضان قادروف نے چیچنیا کے رہنما کی حیثیت سے پانچویں مدت کے لیے 99.85 فیصد ووٹ حاصل کرلیے۔
روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق روس کے جنوبی اور اکثریتی مسلم خطے چیچنیا میں رمضان قادروف نے 99.85 فیصد ووٹ حاصل کرکے ایک بار پھر خطے کی قیادت سنبھال لی ہے۔ یہ شرح 2021 کے انتخابات میں حاصل کیے گئے 99.73 فیصد ووٹوں سے معمولی زیادہ ہے۔ بین الاقوامی مبصرین ماضی میں چیچنیا میں انتخابات کے انعقاد پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے زیلنسکی کا امریکا سے چیچن صدر کو اغوا کرنے کا مطالبہ، رمضان قادروف کا سخت ردِعمل
روس میں اتوار کو قومی پارلیمان کے ساتھ علاقائی اسمبلیوں اور گورنروں کے انتخابات بھی مکمل ہوئے۔ یہ انتخابات یوکرین جنگ کے ساڑھے 4 سال مکمل ہونے کے بعد روس کے سخت کنٹرول والے سیاسی نظام کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیے گئے تھے۔ نتائج کے مطابق کریملن کی حمایت یافتہ جماعتوں اور امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جبکہ جنگ مخالف بیشتر امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
Russian 121-year-old resident votes from home
Russia’s oldest citizen Yaha Khashagova voted in Grozny as election officials and medical workers visited her at home pic.twitter.com/QrKNFJzlbB
— RT (@RT_com) September 20, 2026
رمضان قادروف کو روسی صدر پیوٹن کی جانب سے چیچنیا کے انتظام میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اس کے بدلے وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ چیچنیا میں 1990 کی دہائی کے دوران اسلامی شدت پسندوں کی روس مخالف مسلح مزاحمت جاری رہی تھی۔ قادروف مسلسل پیوٹن سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہیں اور یوکرین جنگ میں سخت مؤقف رکھتے ہیں، جہاں ان کے بقول چیچن جنگجو 2022 سے روسی افواج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیےروسی صدر پیوٹن کی قرآن مجید کو بوسہ دینے اور دل کے ساتھ لگائے رکھنے کی ویڈیو وائرل
قادروف کے اقتدار میں آنے کا پس منظر بھی چیچن تنازع سے جڑا ہے۔ ان کے والد احمد قادروف کو 2004 میں ایک بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے قادروف حکومت پر صحافیوں اور ہم جنس پرست افراد سمیت مختلف طبقات کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، تاہم قادروف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔













