6 سال سے کھدی یونیورسٹی روڈ مکمل نہ ہوسکی، حکام کے لیے فلائی اوور پر ریڈ کارپٹ بچھا دیا گیا، سوشل میڈیا پر تنقید

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی کے موسمیات فلائی اوور کا افتتاح ہوا تو نئی سڑک پر ایک غیر معمولی منظر نے سب کی توجہ کھینچ لی۔ فلائی اوور پر ریڈ کارپٹ بچھایا گیا اور حکام کی گاڑیوں کا قافلہ اسی شاہانہ راستے سے گزرا۔ افتتاحی تقریب کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں تو فلائی اوور سے زیادہ ریڈ کارپیٹ زیرِ بحث آ گیا اور صارفین نے اسے حکام کے شاہانہ پروٹوکول کی مثال قرار دیتے ہوئے طنزیہ تبصروں کی بھرمار کر دی

سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کراچی کی ’ریڈ لائن‘ پر آخر لال کارپٹ بچھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اشرافیہ کی گاڑیاں بھی لال کارپٹ پر چلتی ہیں اتنی شاہانہ زندگی گزارنے والے کیسے اقتدار چھوڑیں گے، انہوں نے تنقید کرتے ہوءے کہا کہ تف ان پر نہ کریں، تف ان پر کریں جو ان کے حق اقتدار کے لیے دلائل لاتے ہیں۔

ڈاکٹر ہما سیف نے تنقید کرتے ہوءے لکھا کہ عوام کے حالات اتنے اچھے ہیں کہ حکمران اشرافیہ کی گاڑیوں کے لیے بھی سرخ کارپٹ ضروری ہے۔

عنبر دانش نے ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ جس پل کے اوپر آج نااہلوں کا ریڈ کارپٹ چل رہا ہے، اسی پل کے نیچے 6 سال سے یونیورسٹی روڈ کھدی پڑی ہے۔ شہری نے لائیو ریڈ کارپٹ کی ویڈیو بنا لی لیکن شرم پھر بھی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا جو یہ ریڈ کارپٹ پر اپنی گاڑیاں چلا کر آرہے ہیں؟ کوئی شرم ہی کر لیتے کہ شہر کو نہ پانی دے سکے نہ انفراسٹرکچر، نہ کچرا اٹھا سکے، نہ بی آر ٹی بنا سکے۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریڈ لاین کے برج کا افتتاح تھا اس حساب سے میچنگ ریڈ کارپٹ ضروری تھی۔ اب گرین لائن کے لئے شاید گرین کارپیٹ ہوگی۔

ایک صارف نے تو معاملے کو ہی ’ریڈ لائن‘ سے جوڑتے ہوئے طنزیہ تبصرہ کیا کہ ریڈ لائن کے لیے لال کارپٹ تو بنتا ہی تھا۔

واضح رہے کہ سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اتوار کو موسمیات فلائی اوور کا افتتاح کیا۔ تقریب کے موقع پر فلائی اوور پر باقاعدہ ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، جس پر صوبائی وزیر اور دیگر حکام کی گاڑیوں کے قافلے کو گزارا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp