آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے گاؤں نوگراں سے 11 سال کی عمر میں نکلنے والے سندیس کی گھر واپسی 66 برس بعد ممکن ہوئی۔ جب وہ اپنے آبائی گاؤں پہنچے تو ان کی عمر 77 سال تھی، تاہم اس طویل عرصے میں ان کی زندگی، شناخت اور خاندان سب کچھ بدل چکا تھا۔
1960 میں گوہر آباد اسکول میں زیر تعلیم سندیس ایک استاد کی ڈانٹ اور مبینہ مار کے خوف سے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے، گھر والوں کو کئی برس تک یہی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں گئے۔
یہ بھی پڑھیں: تقسیم کی یادیں تازہ،عدنان صدیقی بھارت میں آبائی گھر کی ویڈیو دیکھ کر جذباتی ہوگئے
خاندان کے مطابق اس زمانے میں استاد سے شکایت کرنا آسان نہیں سمجھا جاتا تھا، جبکہ سندیس کے گھر والوں نے بھی حالات کو برداشت کرنے کی کوشش کی۔
سندیس کے بھتیجے متین کے مطابق استاد سندیس کے گھر بھی آئے اور ان کے والدین سے شکایت کی کہ وہ نہ باقاعدگی سے اسکول آتے ہیں اور نہ تعلیم پر توجہ دیتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سندیس گھر سے نکل گئے، گاؤں کے قریب ایک بازار میں انہیں آخری مرتبہ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
فیصل آباد سے رحیم یار خان تک، نئی شناخت کے ساتھ زندگی
گھر سے نکلنے کے بعد سندیس ایک ٹرک ڈرائیور کے ساتھ فیصل آباد پہنچے، جہاں انہوں نے محنت مزدوری شروع کر دی۔
کچھ عرصے بعد وہ رحیم یار خان کے قریب خان پورا کٹورا نامی گاؤں چلے گئے، جہاں سعید احمد اور رفیق احمد نے انہیں کام پر رکھ لیا۔
سندیس کے مطابق انہیں ابتدا میں گھر کی بہت یاد آتی تھی، لیکن اسکول کے استاد کا خوف انہیں واپس جانے سے روکتا رہا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: ٹرالر حادثے میں لاپتا ماہی گیر نصف صدی بعد گھر پہنچ گیا
وقت گزرنے کے ساتھ وہ اسی خاندان کے ساتھ رہنے لگے۔
ان کی شناختی دستاویزات میں نام بھی تبدیل کرکے عبدالعزیز درج کر دیا گیا اور وہ کئی دہائیوں تک اسی نام سے جانے جاتے رہے۔
2005 کا زلزلہ، والدین کی یاد اور مسجد کی تعمیر
2005 کے زلزلے نے ان کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا، کشمیر میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات سن کر انہیں خدشہ ہوا کہ شاید ان کے والدین اور دیگر اہلخانہ بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔
والدین کی یاد میں انہوں نے اپنی کمائی سے ایک مسجد تعمیر کرائی تاکہ اس کا ثواب ان تک پہنچتا رہے۔
سندیس کی گھر واپسی ایک اتفاق سے ممکن ہوئی، وہ رحیم یار خان میں رشید نامی شخص کی دکان پر بیٹھا کرتے تھے اور اکثر اپنی آبائی سرزمین کا ذکر کرتے تھے۔

اسی دکان پر آنے والے رمضان نامی کشمیری ڈرائیور نے ان کی کہانی سنی تو خاندان تلاش کرنے کی کوشش کی۔
کچھ عرصے بعد رمضان خاندان تک پہنچ گیا اور سندیس کے بھتیجے متین کو معلوم ہوا کہ ان کے چچا زندہ ہیں اور رحیم یار خان میں موجود ہیں۔
خاندان کے افراد وہاں پہنچے اور انہیں واپس کشمیر لانے کی اجازت حاصل کی، جب سندیس کو معلوم ہوا کہ ان کے والدین اور بھائی دنیا میں نہیں رہے تو انہیں گہرا صدمہ ہوا۔
گھر واپسی پر شاندار استقبال
تاہم کچھ رشتہ دار اب بھی زندہ تھے۔ وہ بھتیجے کے ہمراہ نوگراں واپس پہنچے اور 66 برس بعد اپنی زمین اور گھر کی جگہ کو پہچان لیا، اگرچہ گاؤں کی شکل کافی بدل چکی تھی۔
گھر واپسی پر خاندان کی نئی نسل نے ان کا استقبال کیا۔ دور دراز علاقوں سے لوگ بھی ان سے ملنے پہنچ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’گھر سے فرار‘ کا الزام، افغان طالبان کی عدالت سے خاتون کو قید اور کوڑوں کی سزا
سندیس کے لیے یہ لمحہ خوشی کے ساتھ ایک دیرینہ دکھ بھی لیے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا افسوس ہمیشہ رہے گا کہ وہ والدین اور بھائیوں سے دوبارہ نہ مل سکے، تاہم اب انہیں اطمینان ہے کہ زندگی کے آخری حصے میں وہ اپنے لوگوں تک واپس پہنچ گئے ہیں۔














