سپریم کورٹ آف پاکستان نے مدرسہ کے طالب علم سے بدفعلی کے کیس میں نامزد ملزم زین علی کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعی کی جانب سے غلط مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور جہاں یہ واقعہ پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے جہاں ایسا عمل ممکن نہیں۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’ایسا عمل مدرسہ میں کرنا تو اور بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ ‘
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف چالان جمع ہو چکا ہے اور اس پر باضابطہ فردِ جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ملزم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ملزم بے قصور ہے تو اپنے آپ کو ٹرائل کورٹ میں بے گناہ ثابت کرے۔‘
بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے تمام دلائل سننے کے بعد ملزم زین علی کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ واضح رہے کہ ملزم کے خلاف متعلقہ واقعے کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ ٹیکسلا میں درج ہے۔














