اے آئی کی جعلی جنگلی حیات، سوشل میڈیا پر کروڑوں آنکھوں کو دھوکا دینے لگی

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت سے تیار کی جانے والی جنگلی حیات کی جعلی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے، جہاں غیر حقیقی مناظر لاکھوں صارفین کو حقیقی محسوس ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں شیئر بھی کیے جارہے ہیں۔

لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اے آئی سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہوگئی ہے جن میں جانوروں کو ایسے غیر معمولی حالات میں دکھایا جاتا ہے جو حقیقت میں پیش آنا قریباً ناممکن ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:120 سال پرانے محفوظ شدہ ریچھ کے بال جنگلی حیات کے جرائم پکڑنے میں کیسے مدد دے رہے ہیں؟

امریکا کے شہر بگ بیئر کے مشہور گنجے عقابوں جیکی اور شیڈو کی مثال بھی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ ان عقابوں سے متعلق ایک ویڈیو میں شیڈو کو اپنی ساتھی جیکی کی کمر پر پنجے رکھ کر ایسے دکھایا گیا جیسے وہ اسے مساج کررہا ہو۔ ویڈیو بظاہر اصلی معلوم ہوتی ہے، تاہم حقیقت میں اسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بعض اے آئی ویڈیوز میں خرگوشوں کو ٹرامپولین پر اچھلتے، جنگلی جانوروں کو انسانوں کے انتہائی قریب اور خطرناک جانوروں کو غیر معمولی دوستانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایسی ویڈیوز بڑی تعداد میں ویوز، لائکس اور شیئرز حاصل کررہی ہیں، جس سے ان کی رسائی مزید بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ رجحان صرف تفریح یا سوشل میڈیا پر غلط معلومات تک محدود نہیں۔ ایسی ویڈیوز لوگوں میں جنگلی جانوروں کے بارے میں غلط تصورات پیدا کرسکتی ہیں اور انہیں یہ تاثر دے سکتی ہیں کہ خطرناک جانوروں کے قریب جانا محفوظ ہے۔

رپورٹ میں ایسی ویڈیوز کا بھی ذکر ہے جن میں قطبی ریچھوں کو انسانوں کی جانب سے ’ریسکیو‘ کیے جانے کے مناظر دکھائے گئے، حالانکہ یہ واقعات مصنوعی طور پر تخلیق کیے گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق جب ناظرین حقیقی جنگلی حیات اور اے آئی سے بنائے گئے مناظر میں فرق نہ کرسکیں تو جانوروں کو درپیش حقیقی خطرات اور تحفظِ جنگلی حیات کی اہمیت بھی پسِ پردہ چلی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ویڈیوز کی سب سے بڑی طاقت ان کی حقیقت سے مشابہت ہے۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں صارفین عموماً ویڈیو کی حقیقت جانچنے کے بجائے اسے دیکھتے، پسند کرتے اور آگے شیئر کردیتے ہیں، جبکہ یہی عمل مصنوعی مواد کو مزید مقبول بنانے میں مدد دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:چین میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسمارٹ ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پر توجہ اور اشتہاری آمدنی حاصل کرنے کی دوڑ بھی ایسے مواد کی تخلیق اور پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ ہے، جس کے باعث مستقبل میں ناظرین کے لیے یہ پہچاننا مزید مشکل ہوسکتا ہے کہ اسکرین پر نظر آنے والی جنگلی دنیا حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کا کمال۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp