معروف اردو افسانہ نگار، ناول نگار اور ماہر نفسیات ڈاکٹر حسن منظر 92 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے اردو فکشن کا ایک منفرد باب اختتام پذیر ہوگیا۔ حسن منظر نے افسانے اور ناول میں انسانی نفسیات، معاشرتی تضادات، تہذیبی تبدیلی، ہجرت، محرومی اور مختلف معاشروں کے تجربات کو اپنے مخصوص دھیمے اور سادہ اسلوب میں بیان کیا۔ ان کے نمایاں ادبی کاموں میں ’رہائی‘، ’ندیدی‘، ’العاصفہ‘، ’دھنی بخش کے بیٹے‘، ’انسان اے انسان‘ اور ’حبس‘ شامل ہیں۔
حسن منظر 4 مارچ 1934 کو ہاپڑ، ضلع میرٹھ، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مظہر حسن ریلوے میں ملازم تھے۔ ان کا بچپن اور لڑکپن شمالی اترپردیش کے مختلف شہروں میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم ہیوئٹ مسلم ہائی اسکول مرادآباد سے حاصل کی، جبکہ تقسیم ہند کے بعد 1947 میں خاندان کے ساتھ لاہور آگئے۔ یہاں اقبال ہائی اسکول سے میٹرک کیا، فورمین کرسچین کالج لاہور سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔
طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حسن منظر کی عملی زندگی مختلف ملکوں اور معاشروں سے گزرتی رہی۔ کراچی کے موری پور میں ایک صنعتی اسپتال سے پیشہ ورانہ سفر شروع کیا، بعدازاں رائل ڈچ مرچنٹ نیوی کے جہاز پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1968 میں برطانیہ گئے جہاں ایڈنبرا یونیورسٹی سے سائیکاٹری کی تعلیم حاصل کی اور رائل کالجز آف فزیشنز اینڈ سرجنز ایڈنبرا و گلاسگو سے ڈی پی ایم کی اعلیٰ سند حاصل کی۔ وہ سعودی عرب، نائیجیریا، اسکاٹ لینڈ اور ملائیشیا میں بھی مقیم رہے۔ ان وسیع سفری اور پیشہ ورانہ تجربات نے بعدازاں ان کے فکشن کو غیر معمولی جغرافیائی اور ثقافتی وسعت عطا کی۔
1973 میں پاکستان واپس آکر انہوں نے اپنی اہلیہ ڈاکٹر طاہرہ کے ساتھ حیدرآباد سندھ میں نفسیاتی امراض کا کلینک قائم کیا۔ ڈاکٹر طاہرہ بچوں کی معالج تھیں۔ حسن منظر کے طبی تجربے اور انسانی نفسیات سے گہری واقفیت کا عکس ان کے افسانوں اور ناولوں میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے کردار محض کہانی آگے بڑھانے کے لیے وجود میں نہیں آتے بلکہ اپنی نفسیاتی کیفیت، سماجی پس منظر، محرومیوں، خواہشات اور داخلی کشمکش کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
حسن منظر نے طالب علمی کے زمانے ہی سے لکھنا شروع کردیا تھا۔ ان کا ادبی رجحان ترقی پسند تحریک کی طرف رہا اور انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں بھی اپنے افسانے پیش کیے۔ ان کے ابتدائی افسانوں میں ’مستقبل‘ اور ’لاسہ‘ کا ذکر ملتا ہے۔ ’لاسہ‘ پڑھ کر سعادت حسن منٹو نے ان کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ احمد ندیم قاسمی نے ’ندیدی‘ سننے کے بعد ان کے افسانے اور اسلوب کی پختگی کو محسوس کیا۔
وہ میرزا ادیب کو اپنا پہلا ناقد قرار دیتے تھے، جنہوں نے طالب علمی کے زمانے میں لکھے گئے افسانے ’داشتہ‘ کو اپنی تحریر میں سراہا تھا۔ تاہم طب کی تعلیم، پیشہ ورانہ مصروفیات اور بیرون ملک قیام کے باعث ایک طویل عرصے تک ان کی ادبی سرگرمیاں محدود رہیں۔
1981 میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’رہائی‘ شائع ہوا، جبکہ اگلے برس ’ندیدی‘ منظرعام پر آیا۔ اس کے بعد ’انسان کا دیش‘ سمیت ان کے افسانوی مجموعے شائع ہوتے رہے۔ ان کے ہاں موضوعات کی وسعت، بدلتے ہوئے جغرافیے، انسانی نفسیات اور معاشرتی حقیقت نگاری نمایاں خصوصیات کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ریختہ کے ریکارڈ میں بھی ’رہائی‘، ’ندیدی‘، ’انسان اے انسان‘ اور ’دھنی بخش کے بیٹے‘ سمیت ان کی متعدد تصانیف درج ہیں۔
حسن منظر ادبی مراکز اور ادبی گروہوں سے نسبتاً دور رہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی ادبی محفلوں میں مسلسل موجود رہنے کے بجائے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ طب، سفر اور تخلیقی کام میں صرف کیا۔ شاید یہی وجہ رہی کہ ان کے غیر معمولی تجربات اور تخلیقی کام کے باوجود ان کا چرچا بعض دوسرے ہم عصر ادیبوں کے مقابلے میں کم رہا، لیکن ان کا ادبی مقام وقت کے ساتھ مستحکم ہوتا گیا۔
اکیسویں صدی میں حسن منظر نے ناول نگاری پر زیادہ توجہ دی۔ 2006 میں ’العاصفہ‘ شائع ہوا، جس میں تیل کی دریافت کے بعد تبدیل ہوتے عرب معاشرے کے ساتھ ساتھ اس خطے کی سماجی، معاشی اور تہذیبی زندگی کی منظرکشی کی گئی۔ مختلف معاشروں میں طویل قیام کے باعث حسن منظر کو ایسے ماحول کو اندر سے دیکھنے اور اسے فکشن میں منتقل کرنے کا موقع ملا تھا۔
2008 میں شائع ہونے والا ’دھنی بخش کے بیٹے‘ ان کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ وسیع کینوس، بدلتے معاشرتی حالات، طبقاتی کشمکش اور تہذیبی تبدیلی اس ناول کے نمایاں پہلو ہیں۔ بعدازاں ’انسان اے انسان‘ اور ’حبس‘ سمیت ان کے دیگر ناول سامنے آئے۔ ’حبس‘ کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ کی تحسینی رائے بھی ادبی حلقوں میں نقل کی جاتی رہی ہے۔ ’دھنی بخش کے بیٹے‘ کو بعد میں ہندی میں بھی منتقل کیا گیا۔
2019 میں ’اے فلکِ ناانصاف‘ شائع ہوا، جس میں مغل عہد کے روشن خیال کردار داراشکوہ اور برصغیر کے تہذیبی و فکری ماحول کو موضوع بنایا گیا۔ ناول میں تاریخ محض پس منظر نہیں بلکہ انسانی فکر، روشن خیالی اور معاشرتی کشمکش کے بڑے سوالات کے اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس ناول کو ادبی سطح پر بھی پذیرائی ملی اور اسے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے فکشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
حسن منظر کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ وہ ایک مستند طبیب اور ماہر نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی ادب کے اہم نام بھی تھے۔ طب نے انہیں انسانی جسم، ذہن اور بیماریوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جبکہ ادب نے انہی تجربات کو انسانی زندگی، سماج اور کرداروں کے پیچیدہ باطن میں منتقل کرنے کی صلاحیت دی۔
ان کے فکشن میں انسان کسی ایک شناخت تک محدود نہیں رہتا۔ وہ بیک وقت فرد بھی ہے، خاندان کا حصہ بھی، کسی طبقے کا نمائندہ بھی، ایک تہذیب کا وارث بھی اور بدلتے ہوئے زمانے سے نبردآزما ایک وجود بھی۔ یہی انسانی پیچیدگی حسن منظر کے افسانوں اور ناولوں کو محض قصہ گوئی سے آگے لے جاتی ہے۔
ان کی زندگی کے وسیع جغرافیے نے بھی ان کے ادب کو منفرد بنایا۔ پاکستان، سعودی عرب، نائیجیریا، برطانیہ اور ملائیشیا میں قیام کے تجربات ان کے مشاہدے کا حصہ بنے۔ ان کے ہاں دیہی اور شہری زندگی، مشرق و مغرب، مختلف طبقات اور مختلف تہذیبی ماحول ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
حسن منظر کے فن کو ان کے ہم عصروں نے بھی سراہا۔ فیض احمد فیض نے ان کی کہانیاں پڑھنے کے بعد انہیں لکھا کہ اب ان کی تحریریں پڑھ کر محسوس ہوا کہ ان کے دوست نے حسن منظر کی تعریف میں مبالغے کے بجائے شاید کم گوئی سے کام لیا تھا۔ احمد ندیم قاسمی نے ’ندیدی‘ کے حوالے سے ان کے افسانوی اسلوب کی پختگی کو محسوس کیا، جبکہ مستنصر حسین تارڑ نے ’حبس‘ کو نوبل انعام کا مستحق قرار دیا۔
حسن منظر کی خودنوشت ’گزرے دن‘ بھی ان کی زندگی کے وسیع تجربات کا اہم ریکارڈ ہے۔ اس میں نائیجیریا میں گزارے گئے برسوں سمیت مختلف ملکوں، شہروں اور معاشروں میں حاصل ہونے والے تجربات کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کی کتابوں کے موجودہ فہرستوں میں خودنوشت، ناول، افسانوی مجموعوں اور دیگر اصناف کی متعدد تصانیف شامل ہیں۔
حسن منظر کی ادبی خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد اعزازات سے سراہا گیا۔ ان کے افسانوی مجموعے ’جھجک‘ کو سعادت حسن منٹو ایوارڈ ملا، 2020 میں مجلس فروغ اردو ادب، دوحا کی جانب سے انہیں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2022 میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز عطا کرنے کا اعلان کیا۔
اسی سال حسن منظر کو اکادمی ادبیات پاکستان کا کمالِ فن ایوارڈ بھی دیا گیا، جو ملک کا سب سے بڑا قومی ادبی ایوارڈ قرار دیا جاتا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے سرکاری ریکارڈ میں حسن منظر کا نام 2022 کے کمالِ فن ایوارڈ یافتہ ادیب کے طور پر درج ہے۔
یہ اعزاز ان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کا اعتراف تھا، مگر حسن منظر کی اصل میراث ان کی کتابیں، کردار اور وہ انسانی سوالات ہیں جنہیں انہوں نے اپنی تحریروں میں جگہ دی۔
حسن منظر کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے شور سے زیادہ اپنے کام پر بھروسا کیا۔ انہوں نے ادبی گروہ بندی سے فاصلے پر رہتے ہوئے لکھا اور زندگی کے مختلف جغرافیوں، معاشروں اور طبقوں سے اپنے موضوعات کشید کیے۔ ان کا اسلوب سادہ، دھیمے مزاج کا حامل اور غیر نمائشی تھا، مگر اس سادگی کے اندر انسانی زندگی کی پیچیدگی پوری شدت سے موجود تھی۔
ان کے انتقال سے اردو فکشن نے ایک ایسے قلم کار کو کھو دیا جس نے اپنے طویل تخلیقی سفر میں انسان کو مرکز بناکر لکھا۔ وہ ڈاکٹر بھی تھے، ماہر نفسیات بھی، مسافر بھی اور ادیب بھی۔ شاید اسی لیے ان کے ادب میں جسم، ذہن، معاشرہ، تہذیب اور تاریخ ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی انسانی تجربے کے مختلف پہلو دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ادیب کی زندگی اس کے سانس کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ اس کی دوسری زندگی اس کے لفظوں میں شروع ہوتی ہے۔ حسن منظر کی دوسری زندگی اب ان ہی لفظوں میں جاری رہے گی، جہاں ان کے کردار موجود ہیں، ان کے سوال موجود ہیں اور انسانی زندگی کو دیکھنے کا ان کا منفرد زاویہ بھی۔
اردو ادب ایک ایسے ادیب سے محروم ہوگیا ہے جس نے قریباً سات دہائیوں پر محیط ادبی سفر میں فکشن کو اپنے وسیع انسانی اور عالمی تجربے سے مالا مال کیا۔ حسن منظر 27 ستمبر کو رخصت ہوگئے، مگر ان کا تخلیقی منظرنامہ اردو ادب کے قاری کے لیے بدستور آباد رہے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














