تیزی سے بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور ابھرتے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان مضبوط تزویراتی روابط اور ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے جس میں ایشیا پیسیفک خطہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری
یہ بات ملائیشیا کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسلامک اسٹڈیز (آئی اے آئی ایس) کے وفد نے اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے دورے کے موقعے پر کہی۔
اس موقعے پر دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
آئی اے آئی ایس کے وفد میں سربراہ ڈاکٹر سید ازمن بن سید احمد نواوی، نائب سربراہ ڈاکٹر احمد بدری بن عبداللہ، ڈاکٹر عبداللطیف بن محمد ابراہیم اور محمد فیض بن مد نواوی شامل تھے۔ آئی پی ایس کی نمائندگی چیئرمین خالد رحمان، وائس چیئرمین سید ابرار حسین، کشمیر امور کے ماہر عبد الرشید ترابی اور دیگر نے کی۔
مذاکرات میں شرکا نے اتفاق کیا کہ بین الاقوامی نظام میں تبدیلیوں کے باعث خصوصاً ایشیا میں جہاں مسلم آبادی، معاشی استعداد اور تزویراتی اہمیت نمایاں ہے مسلم دنیا کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وجہ سے باہمی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران مسلم ممالک کے ارکان کا واک آؤٹ، ہال خالی ہوگیا
ملاقات میں فلسطین میں جاری نسل کشی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، افغانستان، سوڈان اور دیگر تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ ان دیرینہ تنازعات کو صرف قلیل مدتی بحرانوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئی پی ایس کے ماہرین نے وفد کو عالمی امن کے لیے پاکستان کو درپیش جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ مسلم فکر پر نوآبادیاتی اثرات، اسلاموفوبیا، خاندانی نظام اور مسلم معاشروں کو درپیش مسائل پر فکری روابط مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
اس تناظر میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت عالمی مسلم امور، بین الاقوامی تعلقات اور نظم و نسق کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، مکالمے اور تعاون کے لیے فریم ورک فراہم کرے گی۔ دونوں اداروں نے مشترکہ سیمینارز، کانفرنسز، تحقیقی بریفز کے تبادلے اور مشترکہ اشاعتوں پر اتفاق کیا۔
وفد نے علامہ اقبال کی تصانیف کے ملائی زبان میں تراجم پر مشتمل مطبوعات بھی پیش کیں اور آئی پی ایس کے بانی پروفیسر خورشید احمد کی کتب کا ملائی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
آخر میں آئی پی ایس چیئرمین خالد رحمان نے کہا کہ اداروں کے درمیان مسلسل علمی تبادلے سے عصر حاضر کے چیلنجز کی بہتر تفہیم اور مؤثر پالیسی ردعمل تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔














