بھارتی کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور، بی جے پی کا واک آؤٹ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے خطے کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کرلی ہے۔

تاہم اس معاملے پر ایوان میں حکومتی ارکان اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے اور بی جے پی ارکان احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔

 وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں نئی دہلی کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: عمر عبداللہ کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ پھر سامنے آگیا

قرارداد کو پیر کو صوتی ووٹ سے منظور کیا گیا، جبکہ بی جے پی ارکان ووٹنگ سے قبل ہی ایوان سے باہر نکل گئے۔

عمر عبداللہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال ہونا خطے کا حق ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے ریاستی حیثیت کو ’مناسب وقت‘ پر بحال کرنے کے سابقہ وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب اس معاملے پر مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق جموں و کشمیر میں منتخب حکومت قائم ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، اس کے باوجود خطے کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دینے کے حوالے سے کوئی واضح مدت سامنے نہیں آئی۔

قرارداد میں ماضی میں جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

ان میں 2000 میں زیادہ خودمختاری کے مطالبے سے متعلق قرارداد اور نومبر 2024 میں خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتا ہوا بھارتی جبر: آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کشمیریوں سے متحد ہونے کی اپیل کردی

تاہم بی جے پی ارکان نے قرارداد کے متن اور اس میں سابقہ آئینی حیثیت سے متعلق حوالوں پر اعتراض کیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے کو آرٹیکل 370 اور دیگر آئینی معاملات سے جوڑنا درست نہیں۔

بی جے پی نے قرارداد کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی اور ووٹنگ سے قبل ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

دوسری جانب عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ موجودہ قرارداد کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنا ہے۔

انہوں نے بعض ترامیم کو واپس لینے کی بھی حمایت کی تاکہ قرارداد کا مرکزی مطالبہ ریاستی حیثیت کی بحالی تک محدود رہے۔

جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی اور انتظامی حیثیت میں بڑی تبدیلی اگست 2019 میں آئی، جب بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خطے کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی

مزید پڑھیں: جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کا مؤقف برقرار، سلامتی کونسل کی قراردادیں اب بھی مؤثر ہیں، نائب ترجمان یو این سیکرٹری جنرل

اس کے ساتھ سابق ریاست کو 2 وفاقی اکائیوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا گیا۔

اس اقدام کے بعد جموں و کشمیر کو براہِ راست نئی دہلی کے زیرِ انتظام یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا، 2024 میں اسمبلی انتخابات کے بعد عمر عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہوئی۔

تاہم منتخب حکومت کے اختیارات سابق ریاستی نظام کے مقابلے میں محدود ہیں اور لیفٹیننٹ گورنر کو اہم انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp