اپنے لیے بہترین تکیہ کیسے منتخب کریں؟ جانیے آسان طریقہ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اچھی نیند کے لیے صرف بستر اور سونے کا وقت ہی اہم نہیں بلکہ تکیے کا درست انتخاب بھی گردن، ریڑھ کی ہڈی اور مجموعی آرام پر اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر

ماہرین کے مطابق ہر شخص کے لیے ایک ہی قسم یا ایک ہی اونچائی کا تکیہ موزوں نہیں ہوتا بلکہ اس کا انتخاب سونے کی پوزیشن، جسمانی ساخت اور گدے کی سختی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

فزیوتھراپی کے ماہر ڈاکٹر کرس میکارتھی کے مطابق وہ خود بھی اپنے پسندیدہ تکیے کے بغیر سفر کرنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل پہنچنے کے بعد بھی وہ اکثر دستیاب تکیوں کو اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ گردن کو مناسب سہارا مل سکے۔

ماہر کے مطابق غلط تکیہ صرف بے آرامی کا ہی سبب نہیں بنتا بلکہ گردن میں درد یا اکڑاؤ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے تکیہ خریدتے وقت صرف اس کی نرمی یا ظاہری شکل دیکھنے کے بجائے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ عام طور پر کس پوزیشن میں سوتے ہیں۔

آپ کس پوزیشن میں سوتے ہیں؟

ماہر کے مطابق زیادہ تر افراد 3 بنیادی انداز میں سوتے ہیں یعنی کروٹ کے بل، سیدھا کمر کے بل یا پیٹ کے بل۔

پیٹ کے بل سونے والوں کے لیے اہم مشورہ

ماہر پیٹ کے بل سونے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کیونکہ اس پوزیشن میں گردن کو طویل وقت تک ایک جانب موڑ کر رکھنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: یونیورسٹی کے نئے طالب علم نیند پوری کیسے کریں؟ ماہرین کے اہم مشورے

ان کے مطابق اس طرح گردن کے بعض پٹھوں یا رباط پر مسلسل کھنچاؤ پڑ سکتا ہے جس سے وقت کے ساتھ جلن، اکڑاؤ یا درد پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے اگر ممکن ہو تو سونے کی ایسی پوزیشن اختیار کرنا بہتر ہے جس میں گردن قدرتی اور نسبتاً سیدھی حالت میں رہے۔

کمر کے بل سونے والوں کے لیے تکیہ کتنا اونچا ہو؟

کمر کے بل سونے والے افراد کے لیے تکیے کی اونچائی کا تعلق گردن اور اوپری ریڑھ کی ہڈی کی قدرتی ساخت سے ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ بعض افراد میں گردن اور اوپری ریڑھ کی ہڈی کا خم نسبتاً زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں نسبتاً موٹا تکیہ زیادہ مناسب ہوسکتا ہے جبکہ جن افراد کی کمر اور گردن کا خم کم ہو انہیں نسبتاً پتلے تکیے سے زیادہ آرام مل سکتا ہے۔

یعنی صرف یہ اصول کافی نہیں کہ کمر کے بل سونے والے ہر شخص کو ایک ہی اونچائی کا تکیہ استعمال کرنا چاہیے۔

کروٹ کے بل سونے والوں کے لیے کندھوں کی چوڑائی اہم ہے

اگر آپ زیادہ تر کروٹ کے بل سوتے ہیں تو تکیے کا انتخاب کرتے وقت کندھوں کی چوڑائی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

عام طور پر چوڑے کندھوں والے افراد کو نسبتاً اونچے تکیے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ سر اور گردن ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ مناسب سیدھ میں رہیں۔

لیکن یہاں ایک اور اہم چیز بھی سامنے آتی ہے اور وہ ہے گدے کی سختی۔

نرم یا سخت گدا تکیے کی اونچائی بھی بدل دیتا ہے

ماہر کے مطابق تکیے کی مناسب اونچائی کا تعین کرتے وقت یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ کا جسم گدے میں کتنا دھنس جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

مثلاً اگر گدا بہت سخت ہے اور آپ کے کندھے زیادہ نہیں دھنس رہے تو کروٹ کے بل سونے کی صورت میں نسبتاً موٹے تکیے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر گدا نرم ہے تو کندھا اس میں زیادہ دھنس جائے گا جس کے نتیجے میں سر کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے نسبتاً پتلا تکیہ کافی ہوسکتا ہے۔

کمر کے بل سونے والوں میں یہ مسئلہ عموماً اتنا نمایاں نہیں ہوتا کیونکہ جسم کا وزن گدے پر نسبتاً مختلف انداز میں تقسیم ہوتا ہے۔

تکیہ بہت پتلا لگے تو یہ آسان طریقہ آزمائیں

اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ تکیہ بہت پتلا ہے تو اسے فوراً تبدیل کرنے کے بجائے ایک سادہ طریقہ آزمایا جاسکتا ہے۔

ماہر کے مطابق تکیے کے نیچے تہہ کیا ہوا تولیہ رکھا جاسکتا ہے اور ضرورت کے مطابق اس کی تہوں کی تعداد کم یا زیادہ کرکے تکیے کی اونچائی کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

یہ طریقہ نہ صرف موجودہ تکیے کو زیادہ آرام دہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ نیا تکیہ خریدتے وقت مطلوبہ اونچائی کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

کیا مخصوص شکل والا تکیہ زیادہ بہتر ہوتا ہے؟

آج کل مارکیٹ میں مختلف شکلوں کے تکیے دستیاب ہیں جنہیں گردن کے لیے مخصوص، جسمانی ساخت کے مطابق یا طبی نوعیت کا تکیہ قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم ماہر کے مطابق اس بارے میں حتمی شواہد محدود ہیں کہ ہر شخص کے لیے ایسی مخصوص شکل کا تکیہ عام تکیے سے زیادہ مؤثر ہوگا۔

البتہ کچھ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تکیے کا گردن والے حصے میں قدرے زیادہ اونچا ہونا کروٹ کے بل سونے والے بعض افراد کے لیے مددگار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

اس کا اندازہ لگانے کے لیے بھی تولیے کو رول کرکے تکیے کے نیچے گردن والے حصے میں رکھا جاسکتا ہے۔ اگر اس سے گردن اور جسم زیادہ آرام دہ پوزیشن میں محسوس ہوں تو اسی اصول کے مطابق تکیے کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

کروٹ کے بل سونے والوں کے لیے بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تکیہ سر کو اس طرح سہارا دے کہ کمر اور گردن غیر ضروری طور پر ایک جانب نہ جھکیں۔

کمر کے بل سونے والوں کے لیے بھی بعض تکیوں میں درمیان میں ہلکا سا گڑھا اور اطراف میں زیادہ اونچائی رکھی جاتی ہے جس سے سر ایک نسبتاً مستحکم پوزیشن میں رہتا ہے۔ تاہم کچھ افراد کو اس طرح کے تکیے میں گھٹن یا محدودیت محسوس ہوسکتی ہے۔

ماہر کے مطابق جن افراد کا سر نسبتاً بڑا یا بھاری ہو انہیں زیادہ موٹے اور مضبوط تکیے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

روئی، پر یا فوم: تکیے کے مواد کا بھی فرق پڑتا ہے

تکیے میں استعمال ہونے والا مواد بھی اس کے آرام اور شکل برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

پر یا نرم قدرتی مواد سے بھرے تکیے بعض افراد کو گرم موسم میں نسبتاً ٹھنڈک کا احساس دے سکتے ہیں کیونکہ یہ سر کے گرد جمع ہونے والی حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ایسے تکیوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ رات کے دوران حرکت کرنے سے ان کی شکل بدل سکتی ہے۔ تکیہ دب کر یا ایک طرف جمع ہوکر سر کے نیچے سے کھسک سکتا ہے جس سے گردن مناسب پوزیشن سے ہٹ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ہفتہ وار نیند پوری کرنے کی کوشش کیوں بن جاتی ہے پیر کی تھکن کی وجہ؟

اس کے مقابلے میں کھوکھلے ریشوں یا مصنوعی باریک ریشوں سے بھرے تکیے عموماً اپنی شکل بہتر طور پر برقرار رکھتے ہیں اگرچہ وہ حرارت خارج کرنے کے معاملے میں بعض قدرتی مواد جتنے مؤثر نہیں ہوتے۔

کچھ تکیوں میں نچلے حصے میں نسبتاً مضبوط مواد استعمال کیا جاتا ہے تاکہ رات بھر تکیے کی ساخت برقرار رہے۔

ہر شخص کے لیے ایک ہی تکیہ بہترین نہیں

ماہر کے مطابق تکیے کا انتخاب ہر فرد کی جسمانی ساخت، سونے کی پوزیشن اور ذاتی آرام کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسا کوئی ایک ڈیزائن موجود نہیں جو ہر شخص اور ہر سونے کی پوزیشن کے لیے یکساں طور پر بہترین ہو۔

اسی لیے اگر کسی تکیے کے ساتھ آزمائشی مدت دستیاب ہو تو اسے استعمال کرکے دیکھنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟

الغرض بہترین تکیہ وہی ہے جو سر اور گردن کو مناسب سہارا دے، سونے کی پوزیشن کے مطابق ہو اور صبح اٹھنے پر گردن یا کندھوں میں غیر ضروری درد یا اکڑاؤ کا سبب نہ بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp