سلیپ اسکور، میگنیشیم، وائٹ نوائز مشینیں اور نیند ٹریک کرنے والی گھڑیاں جو نیند کو بہتر بنانے کی کوششیں ہیں اب بعض لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ
ایک اچھی رات کی نیند کبھی زندگی کا ایک سادہ سا معمول ہوا کرتی تھی لیکن اب اسے بہتر بنانے کے لیے اس قدر مختلف طریقے اور ٹیکنالوجی استعمال ہونے لگی ہے کہ بعض افراد کے لیے نیند لینا ہی ایک مشکل کام بن گیا ہے۔
نیند کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کی اس کوشش کو ’سلیپ میکسنگ‘ کہا جاتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کا جنون حد سے بڑھ جائے تو انسان نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید خراب کرسکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بعض افراد میں نیند کو ہر حال میں ’مثالی‘ بنانے کی خواہش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے نیند ٹریکر کے اعداد و شمار پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ اس کیفیت کو طبی اصطلاح میں ’آرتھوسومنیا‘ کہا جاتا ہے۔
برطانیہ میں آرتھوسومنیا کو باضابطہ طور پر کسی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے مریضوں میں اس کے آثار دیکھ رہے ہیں۔
کچھ مریض اپنی نیند ٹریک کرنے والی گھڑی یا انگوٹھی کا ڈیٹا لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں اور اس یقین میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں نیند کا کوئی عارضہ لاحق ہے حالانکہ طبی معائنے کے نتائج اطمینان بخش ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: رات کی ڈیوٹی صحت پر کتنی بھاری پڑتی ہے؟ سائنسدانوں نے بہتر نیند کا نیا طریقہ بتا دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنا اور اسے مسلسل ’درست‘ کرنے کی کوشش دراصل نیند کے مسائل میں اضافہ کرسکتی ہے۔
’سلیپ اسکور نام کی کوئی چیز سائنس میں تسلیم شدہ نہیں‘
نیند کا تجزیہ کرنے والا پہلا کمرشل فٹنس ٹریکر فٹ بِٹ کلاسک تھا جس میں سنہ 2009 میں نیند کے تجزیے کی سہولت شامل کی گئی۔
اس کے بعد گارمن، ہُوپ اور ایپل سمیت کئی کمپنیوں نے اپنی کلائی پر پہنی جانے والی ڈیوائسز میں نیند ٹریک کرنے کی سہولت شامل کی جبکہ اورا، الٹرا ہیومن اور رنگ کون جیسی اسمارٹ انگوٹھیاں بھی نیند کا تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔
یہ آلات عموماً رات کی نیند کو مختلف مراحل میں تقسیم کرکے دکھاتے ہیں، جن میں بیداری، ہلکی نیند، گہری نیند اور ’آر ای ایم‘ یعنی تیز آنکھوں کی حرکت والی نیند شامل ہے۔
بہت سے آلات صارف کو ایک مجموعی ’سلیپ اسکور‘ بھی دیتے ہیں۔
تاہم لندن کے رائل برومپٹن اسپتال سے وابستہ ماہرِ طبِ نیند ڈاکٹر الانا ہیر کے مطابق نیند کے اس اسکور کا تصور ’مکمل طور پر گھڑا ہوا‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیند کی سائنس میں ’سلیپ اسکور‘ نام کی کوئی تسلیم شدہ پیمائش نہیں بلکہ یہ اسکور ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں نے خود متعارف کرائے ہیں۔
نیند ٹریک کرنے والے آلات پریشانی کیوں بڑھا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر ہیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے جو مختلف نیند ٹریکرز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا لے کر ان سے متعلق متعدد سوالات کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا
ان کے مطابق یہ معلومات بعض اوقات خود مریض کی نیند کی مشکلات میں حصہ ڈال رہی ہوتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ نیند کو صحت مند طرز زندگی کا حصہ سمجھنے پر زیادہ توجہ دینا اچھی بات ہے لیکن نیند ایسی چیز نہیں جسے ’مکمل‘ بنانے کی مسلسل کوشش کی جائے۔
نیند ٹریکرز کی درستگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکا میں اورا رنگز کے خلاف دائر کی گئی ایک مجوزہ قانونی کارروائی میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ انگوٹھیاں نیند کے معیار اور نیند کے مختلف مراحل کی درست پیمائش نہیں کرتیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اندازوں پر انحصار کرتی ہیں۔
اورا نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی اپنے سائنسی شواہد، تحقیق اور درستگی سے متعلق دعووں پر قائم ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو واضح انداز میں بیان کرنے کے لیے پرعزم ہے کہ اس کی ڈیوائس کیا چیز براہ راست ناپتی ہے، کیا چیز صرف اندازے سے بتاتی ہے اور صارفین کو ان معلومات کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔
جعلی سلیپ اسکور نے بھی لوگوں کو تھکا دیا
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیند ٹریکر درست نہ بھی ہو تو اس کے نتائج انسان کے اگلے دن کے رویے اور کیفیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں شرکا کو نیند ٹریک کرنے والے آلات دیے گئے اور انہیں ایک ’سلیپ اسکور‘ بتایا گیا۔
لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ یہ اسکور فرضی اور بے ترتیب تھے اور ان کا شرکا کی حقیقی نیند سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اگلے روز شرکا سے ان کے موڈ، تھکن اور چوکنے پن کے بارے میں پوچھا گیا، جبکہ توجہ اور ردِعمل کی رفتار جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ بھی لیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ ان کی نیند خراب رہی، انہوں نے خود کو زیادہ تھکا ہوا محسوس کیا اور وہ ذہنی طور پر بھی کم چوکنے تھے حالانکہ ان کے سلیپ اسکور مکمل طور پر جعلی تھے۔
’میں اپنی گھڑی کو اپنی بائبل سمجھنے لگی تھی‘
لندن سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ ہیومن ریسورسز پروفیشنل جیس ہِل کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی نیند ٹریک کرنے والی گارمن گھڑی کے باعث خود کو ایک ایسے ہی چکر میں پھنسا ہوا پایا۔
وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے گھڑی کو اس بات کا فیصلہ کرنے کا ذریعہ بنا لیا تھا کہ وہ اچھی سوئی ہیں یا نہیں۔
اگر گھڑی خراب نیند کا اسکور دیتی تو وہ پہلے ہی یہ سمجھ لیتیں کہ اگلے روز انہیں بہت مشکلات پیش آئیں گی خواہ حقیقت میں ان کی نیند اتنی خراب نہ بھی ہوئی ہو۔
اسی طرح اچھا اسکور ملنے پر وہ خود سے یہ توقع کرنے لگتیں کہ اگلے دن انہیں بہت زیادہ توانائی محسوس ہونی چاہیے۔
جیس ہِل کے مطابق نیند کا اسکور بہتر سے بہتر بنانے کا یہ ’جنون‘ تقریباً 3 سال تک جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیے: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے
بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ گھڑی کے اعداد و شمار ہمیشہ ان کی حقیقی نیند سے مطابقت نہیں رکھتے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ایک رات وہ تقریباً 4 گھنٹے تک جاگتی رہی تھیں اور رات ایک بجے سے صبح 5 بجے تک انہیں نیند نہیں آئی لیکن ان کی گھڑی نے اس کے باوجود انہیں بہترین نیند کا اسکور دے دیا۔
نیند کو نمبر میں تبدیل کرنے سے پریشانی کا چکر
ماہر نیند اور کتاب ’ہاؤ ٹو سلیپ ویل‘ کے مصنف ڈاکٹر نیل اسٹینلے کے مطابق نیند کو ایک کھیل یا مقابلے کی طرح پیش کرنا لوگوں میں نیند کے مسائل کو بڑھا رہا ہے۔
ان کے مطابق جب نیند کو ایک نمبر میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو انسان کے سامنے ایک ہدف آجاتا ہے اور پھر وہ اپنی نیند کے معیار اور دورانیے کے بارے میں مسلسل پریشان رہنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر اسٹینلے کے مطابق جدید نیند ٹریکرز اگرچہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ جدید ہیں لیکن ان میں سے بہت سے بنیادی طور پر جسم کی حرکات کو ناپتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کی نیند کو درست طور پر جانچنا ہو تو دماغ کی سرگرمیوں کو بھی ناپنا ضروری ہے کیونکہ صرف جسم کی حرکات سے حقیقی نیند کی مکمل پیمائش نہیں ہوسکتی۔
پھر اچھی نیند کا راز کیا ہے؟
ماہرِ طبِ نیند ڈاکٹر الانا ہیر کے مطابق اچھی نیند کے لیے بہت زیادہ پیچیدہ طریقے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ چند سادہ اقدامات تجویز کرتی ہیں۔ سونے کا کمرہ نسبتاً ٹھنڈا، تاریک اور پرسکون رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمرہ مکمل طور پر تاریک، بالکل خاموش یا کسی خاص درجہ حرارت پر ہو، بلکہ ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ صبح کے وقت قدرتی یا روشن روشنی میں وقت گزاریں۔ اس سے جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردِعمل، کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
صحت مند بحیرہ روم کے طرز کی خوراک اختیار کریں جس میں مختلف اقسام کی نباتاتی غذائیں شامل ہوں۔ اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیند کو زیادہ پیچیدہ نہ بنایا جائے۔
ڈاکٹر ہیر کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اور سادہ عادات ہی کافی ہوسکتی ہیں جبکہ باقی بہت سی چیزوں کی ضرورت نہیں۔
مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
یعنی اچھی نیند کا راز یہ نہیں کہ آپ اپنی نیند کو ہر رات ’کامل‘ بنانے کی کوشش کریں بلکہ یہ ہے کہ آپ اسے فطری طور پر آنے دیں۔














