گندم کی مناسب نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے درآمدی عمل تیز کرنے کا فیصلہ

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یعنی ٹی سی پی کو ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت فوڈ ایئر 27-2026 کے لیے گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے 7ویں اجلاس میں گندم کی درآمد کے انتظامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت متحرک، ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی ہدایت

اجلاس میں سندھ کی گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باقی ماندہ ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے معاملے پر غور کیا گیا۔

کمیٹی نے ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ باقی مقدار کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے۔

اسحاق ڈار نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ گندم کی درآمد کے عمل میں تاخیر سے بچنے کے لیے مطلوبہ ادائیگیاں فوری طور پر مکمل کریں اور ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے بھی جلد طے کریں۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ گندم کی درآمد کا مقصد ملک میں گندم کی وافر فراہمی یقینی بنانا اور اسے مناسب نرخوں پر دستیاب رکھنا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کسان اونے پونے فصل بیچنے پر مجبور، گندم کے موجودہ بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سندھ کے وزیر خوراک، معاون خصوصی وزیراعظم طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت، مینیجنگ ڈائریکٹر پاسکو، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp