اوپن اے آئی نے میٹا کے مقابلے میں خودکار ایجنٹس ’ڈاٹس‘ متعارف کرا دیے

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپن اے آئی نے میٹا کے مقابلے میں خودکار کام کرنے والے نئے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس ‘ڈاٹس’ متعارف کرا دیے ہیں، جو صارفین کی ہدایات کے مطابق مختلف ایپس پر خود کام کرسکیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹس کاروباری منصوبوں کو سنبھالنے، دستاویزات تیار کرنے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور سافٹ ویئر بنانے سمیت متعدد کام انجام دے سکتے ہیں۔

 اوپن اے آئی نے گزشتہ روز سان فرانسسکو میں اپنے سالانہ ڈویلپر ڈے کے موقع پر ‘ڈاٹس’ متعارف کرائے۔ یہ ایجنٹس ہر وقت فعال رہ سکتے ہیں اور صارفین کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے مختلف ایپس پر خود کام کرسکتے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے کمپنی کاروباری شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے اور خودکار مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں میٹا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی واقعی انسانوں کا خاتمہ کرسکتی ہے، اچانک دنیا میں خوف کیوں پھیل گیا؟

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاٹس مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کا بالکل نیا طریقہ ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ ایجنٹس کمپنی کے اس ماڈل پر کام کرتے ہیں جو انسانی ہدایات پر سب سے زیادہ عمل کرتا ہے، جسے جی پی ٹی 6 آسٹرا کا نام دیا گیا ہے۔ آلٹ مین نے بتایا کہ نئے ایجنٹس کی حفاظتی جانچ بھی کی گئی ہے۔

 تقریب میں ان ایجنٹس کی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض مسائل بھی سامنے آئے۔ براہ راست مظاہرے کے دوران ایجنٹس کئی مرتبہ ہدایات کے جواب میں صوتی پیغامات دینے میں ناکام رہے۔ اوپن اے آئی کے شعبہ ڈویلپر ایکسپیرینس کے سربراہ رومین ہیوٹ نے اس موقع پر صوتی نظام میں مشکلات کا اعتراف کیا۔ کمپنی کے ایک ملازم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ بیک وقت تمام اپ ڈیٹس جاری کرنے کے باعث یہ مسائل پیش آئے۔

اوپن اے آئی کے مطابق ڈاٹس ایسے کاروباری منصوبوں کو بھی سنبھال سکیں گے جن کی ضروریات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر صارفین کی ضروریات بدلنے پر یہ ایجنٹس فروخت کی تجاویز میں ترمیم کرسکیں گے اور جائزے کے لیے عملی نمونہ بھی تیار کرسکیں گے۔ صارفین ان سے سلیک اور مائیکروسافٹ ٹیمز کے ذریعے رابطہ کرسکیں گے، جبکہ یہ ایجنٹس کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کی مدد سے تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے، دستاویزات کی تیاری اور سافٹ ویئر بنانے جیسے کام انجام دے سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  18 ارب ڈالر کے تصفیے کے بعد میٹا کی نئی اے آئی پروڈکٹس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تجزیہ کار

کمپنی نے نئے ایجنٹس کے تحفظ اور صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے لیے مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ صارفین اپنی مرضی کے مطابق قواعد مقرر کرسکیں گے کہ ایجنٹس کون سے کام خود انجام دے سکتے ہیں اور کن کاموں کے لیے انہیں اجازت لینا ضروری ہوگا۔ پاس ورڈ تبدیل کرنے اور ڈیٹا مستقل طور پر حذف کرنے جیسے حساس کاموں کے لیے صارف کی واضح اجازت لازمی ہوگی۔

اوپن اے آئی کے مطابق ڈاٹس اپنے علیحدہ کلاؤڈ کمپیوٹرز پر کام کریں گے، جبکہ کاروباری صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے نجی انٹیلی جنس ٹولز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ کمپنی نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ کاروباری صارفین کے ڈیٹا کو بطور ڈیفالٹ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، جبکہ ذاتی اکاؤنٹس استعمال کرنے والے صارفین اپنی گفتگو اور ڈاٹس کے کام کو تربیت کے لیے استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں۔

 خودکار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود ان کی حفاظت سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں۔ اوپن اے آئی کے بعض ایجنٹس کی جانب سے ہیگنگ فیس کے نظام اور آسٹریلیا کی سرکاری صحت کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کمپنی نے حال ہی میں اپنے آسٹرا ماڈل کا زیادہ طاقتور ورژن جاری کرنے کا فیصلہ بھی مؤخر کردیا تھا، کیونکہ اس ماڈل میں صارفین کو اپنے اقدامات کے بارے میں گمراہ کرنے کا رجحان دیکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر افشا ہونے کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ کمپنی اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔

اوپن اے آئی نے بتایا کہ کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جو جون میں کوڈیکس کے تقریباً 50 لاکھ صارفین کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ دوسری جانب چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 1 ارب 20 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

کمپنی نے کاروباری ٹیموں اور مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے لیے مشترکہ ورک اسپیس ‘چیٹ جی پی ٹی اسپیس’ بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کم قیمت جی پی ٹی 6.1 سول ماڈل اور 500 ڈالر ماہانہ کا پرو پلان بھی پیش کیا جا رہا ہے، جس میں زیادہ استعمال اور تیز رفتار کارکردگی کی سہولت ہوگی۔

اوپن اے آئی کی جانب سے نئے ایجنٹس کا اجرا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے درمیان خودکار خدمات فراہم کرنے کی دوڑ تیز ہوگئی ہے۔ میٹا کے میوز ایجنٹ کو رواں ماہ لاکھوں مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا، جبکہ خودکار ایجنٹس تیار کرنے والے اسٹارٹ اپ انسٹنکٹ کی مالیت بھی رواں ہفتے بڑھ کر 10 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp