جین زی کا دوسرا دور اور نیا پیٹرن

جمعرات 1 اکتوبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈیا میں گزشتہ چند ماہ کے دوران احتجاج کی جو صورت سامنے آئی ہے، اسے وہاں کے ذرائع ابلاغ نے ایک دلچسپ نام دیا ہے۔ ’جین زی احتجاج‘ یہ نام بنیادی طور پر اس لیے سامنے آیا کہ ان احتجاجوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی، خصوصاً ان نوجوانوں کی جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ماحول میں بڑے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہے۔ یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں، اس کی بنیاد ایک طنزیہ سیاسی جملے سے پڑی۔ انڈین سپریم کورٹ کے ایک جج نے بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں ’کاکروچ‘ کا لفظ استعمال کیا تو 30 برس کے ابھیجیت ڈپکے نے اسی لفظ کو طنزیہ انداز میں اپنا لیا۔ یوں جو لفظ نوجوانوں کی تضحیک کے لیے استعمال ہوا تھا، اسے نوجوانوں نے اپنی علامت بنا لیا۔ پھر یہ مذاق سوشل میڈیا پر پھیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج کی شناخت بن گیا۔

اس احتجاج کا فوری سبب بھارت کا انتہائی اہم طبی داخلہ امتحان تھا،  جس میں تقریباً 20 لاکھ نوجوان شریک ہوتے ہیں، جبکہ ملک میں سرکاری اور نجی اداروں کو ملا کر طبی تعلیم کی نشستیں اس تعداد کے لیے بہت ہی کم ہیں۔ امتحانی پرچے کے افشا اور امتحان کی منسوخی نے ان نوجوانوں میں شدید غصہ پیدا کیا جن کے لیے یہ امتحان محض ایک امتحان نہیں بلکہ کئی برس کی محنت اور مستقبل کا سوال تھا۔ معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب اس تنازع کے نتیجے میں ایک بار پھر امتحان لینا پڑا اور احتجاج کرنے والوں نے تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امت، ریاست اور انڈین مسلمان

یہاں ایک بات قابل توجہ ہے۔ بھارت میں امتحانی پرچے کا افشا کوئی نیا مسئلہ نہ تھا، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس مرتبہ اس ایشو پر ایک ایسی نوجوان تحریک کھڑی ہوگئی جس نے روایتی سیاسی زبان اختیار نہیں کی۔ اس تحریک کے پاس کوئی روایتی منشور نہیں تھا، کوئی معروف سیاسی جماعت اس کی قیادت نہیں کررہی تھی اور نہ ہی اس نے اقتدار حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ پیش کیا۔

یہ احتجاج دہلی تک محدود نہیں رہا۔ دھرنا بڑھا، پارلیمان کی طرف مارچ کی کوشش ہوئی اور پولیس سے تصادم بھی ہوا۔ ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان اس احتجاج کے ساتھ جڑتے گئے۔ مظاہرین میں طلبہ کے علاوہ وہ نوجوان بھی شامل تھے جنہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مسئلے کا سامنا ہے۔  یوں ایک امتحانی مسئلہ آہستہ آہستہ نوجوانوں کے وسیع تر عدم اطمینان کی علامت بن گیا۔

آخرکار جولائی میں تعلیم کے وزیر نے استعفیٰ دے دیا۔ اس واقعے نے اس تحریک کو ایک ایسی کامیابی دی جس نے اس کی اہمیت مزید بڑھا دی۔ لیکن نوجوانوں کا غصہ اس استعفے کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ بعد کے احتجاجوں میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات، بے روزگاری، سرکاری اداروں کی جواب دہی اور انتخابی نظام جیسے موضوعات شامل ہوگئے۔  اور اب ستمبر کے اواخر سے یہی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ سامنے آئی ہے۔

یہ پس منظر دینا ضروری تھا تاکہ بات سمجھنے میں سہولت رہے، لیکن ان سطور میں پیش نظر یہ احتجاج یا اس کی کامیابی کے امکانات نہیں۔ بلکہ اس خاص پہلو کی جانب متوجہ کرنا مقصود ہے جو جنوبی ایشیا میں ایک نئے سیاسی پیٹرن کے طور پر ابھر رہا ہے۔

معمول کا سیاسی چلن دنیا بھر میں یہ ہے کہ سیاست ہر ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں کے بیچ کی کشمکش سے ابھرتی ہے۔ اپوزیشن کی کوشش رہتی ہے کہ حکومت کو مستقل دباؤ میں رکھے، اس دباؤ کی آنچ الیکشن کا سال قریب آنے پر تیز کرتی چلی جائے اور اس سے مطلوبہ انتخابی کامیابی حاصل کی جائے۔ یا اگر الیکشن کے سال سے قبل ہی حکومت کا کوئی بڑا سکینڈل سامنے آجائے تو اس کا فائدہ اٹھا لیا جائے۔ لیکن  پچھلے 15 سالوں کے دوران اس میں ایک بڑی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ روایتی کہنہ مشق سیاستدانوں کی جگہ سیاسی مسخروں نے لینی شروع کردی۔ اور ان مسخروں کو سپورٹ بھی غیر روایتی حلقے سے ملتی چلی گئی۔ یعنی وہ نوجوان جنہیں ویڈیو گیمز کھیلنے والی عمر میں کھیلنے کو سوشل میڈیا ملا تو انہوں نے ویڈیو گیم کی جگہ سیاسی گیم میں دلچسپی لینی شروع کردی۔

یوں امریکا میں اس مخلوق نے کہا، چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ بہت بڑا ہے، لہذا وہ لیڈر بھی بہت بڑا ثابت ہوگا۔ نتیجہ امریکا کی اس بربادی کی صورت نکلا جو تاحال جاری ہے۔ اس مخلوق نے پاکستان میں کہا، چونکہ عمران خان نے ورلڈ کپ جیت رکھا ہے لہذا وہ وزیر اعظم کے منصب پر بھی ٹرافیاں جیتے گا۔ حالانکہ کامن سینس تو یہ کہتی تھی کہ جو گھر چلانے میں ہی دو بار ناکام ثابت ہوا وہ ملک کیسے چلا پائے گا ؟ لیکن ہر فیض حمید کی بھی تو کچھ حسرتیں ہوتی ہیں، سو یہ حسرتیں پوری کرنے کے لئے ملکی معیشت کا جنازہ اٹھوا دیا گیا۔  یہی مسخرہ پن فرانس سے لے کر یوکرین تک کئی جگہ نظر آیا۔ اور ٹرینڈ یہ بنتا نظر آیا کہ ویڈیو گیمز کی عمر والے نوجوانوں نے اپنے ممالک کی تقدیر مسخروں کے ہاتھ میں دینے کا اجتماعی فیصلہ کرلیا ہے۔ اور یہاں سے چرچا شروع ہوگیا جین زی کا۔

انڈیا کے حالیہ مظاہروں کو بھی جین زی کے ہی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اور اسے جین زی کی تحریک قرار دیا جا را ہے۔ مگر یہ اب 2010 سے 2020 کے بیچ والا ٹرینڈ نہیں رہا۔ بلکہ ہم جنوبی ایشیا میں ایک نیا پیٹرن ابھرتا دیکھ رہے ہیں۔ اس پیٹرن میں جین زی اب کسی مسخرے لیڈر کی پوجا کرتی نظر نہیں آرہی، بلکہ اپنے ہی اندر سے قیادت پیدا کرتی دکھ رہی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ اپنے ہی اندر سے ریڈی میڈ قسم کے لیڈر ہی پیدا نہیں کر رہے بلکہ پورے سیاسی کلچر کو ہی بڑی تبدیلی سے گزارتے پائے جا رہے ہیں۔ روایتی سیاسی کلچر یہ ہے کہ ایک لیڈر ہوتا ہے، اس کی جماعت ہوتی ہے، اس جماعت کے دفاتر ہوتے ہیں، دفاتر میں کارکن ہوتے ہیں، کارکن عوام تک پیغام پہنچاتے ہیں اور پھر احتجاج وغیرہ کے مراحل آتے ہیں۔

لیکن جین زی کے پیدا کردہ حالیہ سیاسی کلچر کا پیٹرن یہ ہے کہ پہلے جین زی ہوتے ہیں، پھر سوشل میڈیا نیٹ ورک ہوتا ہے، پھر احتجاج ہوتا ہے، اور اس احتجاج میں سے کوئی کاکروچ لیڈر بن کر  ابھرتا ہے۔ یعنی پرانے سیاسی نظام میں لیڈر احتجاج پیدا کرتا تھا، یہاں احتجاج اپنا لیڈر پیدا کرتا نظر آرہا ہے۔ اس پیٹرن کی سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ تنظیمی دفتر بیچ سے بالکل ہی آؤٹ ہوگیا ہے۔ اور اس کی جگہ لے لی ہے سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ نے، جو سیاسی دفتر سے زیادہ مؤثر ہی نہیں بلکہ محفوظ بھی ثابت ہو رہا ہے۔

ہم اسے باقاعدہ پیٹرن یوں کہہ رہے ہیں کہ یہ سلسلہ ہمیں سری لنکا سے شروع ہوکر براستہ بنگلہ دیش و نیپال انڈیا تک آتا نظر آتا ہے۔ ذرا انڈیا کی موجودہ احتجاجی لہر کی بنگلہ دیش و نیپال سے مماثلت دیکھئے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ 2009 سے مسلسل اقتدار میں تھی۔ جنوری 2024 کے انتخابات اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے ساتھ ہوئے۔ یعنی کوئی باقاعدہ پارلیمانی اپوزیشن حکومت کو انتخابی راستے سے ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ پھر جولائی میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف طلبہ کا احتجاج شروع ہوا۔ ابتدا میں مطالبہ محدود تھا، مگر ریاستی تشدد کے بعد یہ وسیع حکومت مخالف تحریک بن گیا اور 5 اگست کو حسینہ مستعفی ہوکر ملک سے فرار ہو گئیں۔ اس کے بعد جو عبوری حکومت بنی، اس کی سربراہی محمد یونس نے کی، جو کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں تھے۔ طلبہ رہنماؤں نے اس عبوری بندوبست کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیے: نظام اخلاق کا رہبر

یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ پہلی یہ کہ روایتی اپوزیشن شیخ حسینہ کے آگے بالکل بے بس ہوگئی تھی، اور آخرکار حکومت کا خاتمہ کسی انتخابی فتح یا اپوزیشن جماعت کی قیادت میں ہونے والی تحریک سے نہیں ہوا، بلکہ بالکل ہی غیر متوقع طور پر ابھر آنے والی نوجوان احتجاجی تحریک نے حسینہ واجد کے آسیب سے بنگلہ دیش کی جان چھڑائی۔ دوسری بات یہ کہ بنگالیوں نے پوری ذہانت کے ساتھ صورتحال کوہینڈل کیا، اور ملک کو جین زی کے ہاتھ نہ لگنے دیا گیا۔ اس کے لئے انہوں نے دو کام کئے۔ پہلا یہ کہ نوجوان آئیڈیل ازم کے اسیر رہتے ہیں، سو عبوری حکومت محمد یونس کی لا کر آئیڈیل کا لالی پاپ نوجوانوں کو پکڑا دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ اصلاحات کے نام پر اتنا وقت گزار لیا گیا کہ نوجوانوں کے جذبات حد اعتدال پر آگئے۔ اور جب ایسا ہوگیا تو الیکشن کروا کر اقتدار روایتی سیاسی جماعتوں کے سپرد کردیا گیا۔

نیپال میں سالہا سال سے  بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار کے گرد گھومتی رہی تھیں۔ 2022 کے انتخابات کے بعد بھی حکومت بنانے کے لیے بڑی جماعتوں کے درمیان اتحاد ضروری تھا، اور 2015 کے بعد سے ملک کی بڑی جماعتوں کے سربراہ باری باری اقتدار میں آتے رہے تھے۔ ستمبر 2025 میں نوجوانوں کے احتجاج نے اس پورے سیاسی طبقے کو چیلنج کیا۔ احتجاج کا آغاز سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف ہوا، پھر پولیس کی فائرنگ میں ہلاکتوں نے اسے حکومت مخالف تحریک بنا دیا۔ بالآخر وزیراعظم کے پی اولی کو استعفی دینا پڑا۔ یعنی نیپال میں بھی غیر روایتی نوجوان تحریک نے روایتی سیاسی ڈھانچے کو بائی پاس کرکے تبدیلی رونما کی۔

عین یہی صورتحال انڈیا میں بھی نظر آرہی ہے۔ وہاں بھی راہول گاندھی موذی جی کا زور توڑنے میں مسلسل فیل ہو رہے ہیں۔ اور صورتحال یہ ہے کہ سیکولر بھارت اب عملا گویا ہندو جمہوریہ انڈیا بن چکا۔ ایسے میں غیر متوقع طور پر ابھرنے والا ابھیجیت ڈپکے خود روایتی معنوں میں کوئی عوامی سیاسی رہنما نہیں۔ وہ سیاسی ابلاغ کے شعبے سے وابستہ تھا، پہلے عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام بھی کرچکا ہے۔ لیکن اس کے پاس ہندوستانی سیاست کا وہ روایتی ڈھانچہ نہیں تھا جس سے کوئی شخص ہزاروں لوگوں کو سڑک پر لا سکے۔ سی جے پی کا آغاز ایک ویب سائٹ، ایک پوسٹ اور لوگوں کے خود شامل ہونے سے ہوا۔لوگوں کو کسی جلسے میں بلانے کے لیے محلے کی سطح کی تنظیمیں نہیں بنیں، کارکنوں کی فہرستیں نہیں بنیں، برسوں کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی۔ ایک علامت بنی، ایک مسئلہ موجود تھا، لوگوں نے خود کو اس علامت سے مربوط محسو کیا اور چل پڑی تحریک۔

مزید پڑھیں: غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

یہ تحریک موذی جی سے انڈیا کی جان چھرا پاتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت دے گا۔ لیکن فی الحال اس سے اہم سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا ہمارا خطہ ایسی سیاست کی طرف جارہا ہے جس میں نوجوان پہلے کسی لیڈر کو اپنا رہنما منتخب نہیں کرتے بلکہ پہلے کسی مسئلے پر اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر اسی اجتماع سے قیادت نکلتی ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی ملک میں جین زی ہی خود اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس ملک کا انجام کیا ہوگا ؟ جین زی کا بندر ہاتھ لگے استرے سے خودکشی کرے گا یا اپنے ملک کی ہی حجامت کر ڈالے گا ؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp