ریڈیو پاکستان حملہ کیس سے متعلق صوبائی حکومت کی نظرثانی درخواست پشاور ہائیکورٹ نے خارج کردی۔ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
تحریری فیصلے کے مطابق 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا گیا اور عمارت کے اندر موجود املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ واقعے کی تفتیش کے دوران 82 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ٹرائل شروع کیا گیا۔
مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزدگی: اُس دن ہوا کیا تھا؟
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران بعض ملزمان اراکین اسمبلی منتخب ہوئے جو اس وقت بھی ایوان میں موجود ہیں۔ دورانِ ٹرائل صوبائی کابینہ کی توسط سے استغاثہ واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی، تاہم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے واقعے کی نوعیت اور ریڈیو پاکستان کے قانونی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔
تحریری فیصلے کے مطابق ٹرائل کے دوران پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے درخواست دائر کی کہ ریڈیو پاکستان کے پاس واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل ایک USB موجود ہے، جسے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی یا متعلقہ لیبارٹری سے فارنزک جانچ کے لیے بھجوایا جائے۔
اے ٹی سی عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے USB کو فارنزک معائنے کے لیے بھجوانے کا حکم دیا، جس کے خلاف صوبائی حکومت نے پشاور ہائیکورٹ میں نظرثانی پٹیشن دائر کی۔
صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل شروع ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ کو ایسے نئے مواد پر غور کرنے یا اس کا فارنزک معائنہ کرانے کا اختیار نہیں تھا۔
تاہم ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اے ٹی سی عدالت کو منصفانہ فیصلہ کرنے کے لیے ایسے کسی بھی مواد کا جائزہ لینے اور اس کے فارنزک معائنے کا حکم دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے جو مقدمے کے لیے ضروری یا مطلوب ہو۔
مزید پڑھیں:پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت، اہم قانونی نکات پر بحث
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اے ٹی سی عدالت نے نہ پولیس کو تفتیش دوبارہ کھولنے کا حکم دیا اور نہ نئی ایف آئی آر یا چالان درج کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے صرف اپنے دائرہ اختیار کے تحت ایک الیکٹرانک ڈیوائس کے فارنزک معائنے کا حکم دیا، جسے پولیس کی تفتیش میں مداخلت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پشاور ہائیکورٹ نے ان بنیادوں پر صوبائی حکومت کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے اے ٹی سی عدالت کو ہدایت کی کہ ٹرائل جاری رکھا جائے اور سی سی ٹی وی فوٹیج و فارنزک رپورٹ کا فیصلہ مقدمے کے میرٹ پر کیا جائے۔














