پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان پس پردہ 7 ملاقاتیں کن اہم شخصیات کے گھروں پر ہوئیں؟

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی دوغلی پالیسی ایک مرتبہ پھر عیاں ہوگئی کیونکہ مذاکرات کے حوالے سے بظاہر سخت مؤقف کے باوجود گزشتہ چند دنوں میں پارٹی رہنماؤں نے حکومتی حلقوں سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدم اعتماد کی صورت میں پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا سہیل آفریدی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ

باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جہاں عوامی سطح پر حکومت کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کرتے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہیں پس پردہ حکومتی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور اپنے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھتے ہیں۔

ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ تحریک انصاف نے گزشتہ ایک ماہ کے عرصے میں حکومتی رہنماؤں سے 7 ملاقاتیں کی ہیں جن میں سے 3 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائشگاہ پر ہوئیں اور اتنی ہی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے گھر جبکہ ایک ملاقات سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے گھر پر ہوئی ہے۔ ان 7 ملاقاتوں میں سے ایک ایسی بھی تھی جس میں ایک انتہائی اہم شخصیت نے بھی شرکت کی۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کیا ہو اور پس پردہ حکومت سے معاملات طے کرنے کی بھی کوشش کی ہو۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی کئی مرتبہ عوامی سطح پر شدید تنقید کرنے، حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور توڑ پھوڑ اور احتجاج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ پس پردہ وزرا اور حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں اپنے لیے راستے تلاش کرتی اور رعایتوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

تحریک انصاف اور حکام کے درمیان ہونے والی ان ملاقاتوں کی تصدیق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی کی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ان کا حکام کے ساتھ رابطہ ہے اور ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

مزید پڑھیے: کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب

علاوہ ازیں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی آج میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو کی تصدیق کر چکے ہیں۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی انصار عباسی کی بھی 2 روز قبل روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں انہوں نے تحریک انصاف اور حکام کے درمیان ہونے والے پس پردہ رابطوں اور ملاقاتوں کا احوال بیان کیا ہے۔

انصار عباسی نے اپنی خبر میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 4 سے 5 ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان نصف درجن سے زائد پس پردہ ملاقاتیں ہوئیں تاہم ان رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی جانب پارٹی کے مجوزہ مارچ کے معاملے پر پیدا ہونے والا تعطل ختم نہیں ہوسکا۔

انصار عباسی کی خبر کے مطابق ان ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ، سیاسی گنجائش پیدا کرنے، احتجاج اور محاذ آرائی ختم کرنے سمیت عمران خان سے ملاقات، وکلا تک رسائی اور طبی علاج جیسے معاملات پر بات ہوئی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی

ذرائع کے مطابق حکومت اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ سیاسی رابطوں اور بعض معاملات میں سہولت کاری کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے تحریک انصاف کو محاذ آرائی کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔

انصار عباسی کی خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ مارچ کو صرف ملتوی کرنے اور مکمل طور پر منسوخ کرنے کے معاملے پر بنیادی اختلاف برقرار رہا اور پس پردہ رابطوں کے باوجود مارچ منسوخ کروانے کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے برابری کی سطح پر مذاکرات کی خواہشمند لیکن رکاوٹ کون؟

وی نیوز نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے میسج اور کال کے ذریعے رابطہ کرکے ان پس پردہ ملاقاتوں پر ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم دونوں رہنماؤں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp