ریاست ہے تو سیاست، جمہوریت اور ہم سب ہیں، دہشتگردوں کی سہولتکاری اب نہیں چلے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سخت پیغام

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت کی دہشتگردی کے خلاف مجرمانہ غفلت اور سستی پر چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے دوٹوک پیغام دیا ہے کہ سیاست کی آڑ میں دہشتگردوں کی سہولت کاری اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان ان تمام سیاسی حلقوں اور قیاس آرائیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو صوبے کے مخدوش سیکیورٹی حالات کو چھوڑ کر محض سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہنگامی پریس کانفرنس،کیا سہیل آفریدی جانے والے ہیں؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ مختلف حیلوں بہانوں اور ہتھکنڈوں سے دہشتگردی کی سہولت کاری میں ملوث عناصر اب سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور نیت پر انتہائی سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’ہم دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں، آپ آگے کیوں نہیں آتے؟‘

ترجمان نے انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے استفسار کیا کہ ’کیا آپ بزدل ہیں یا دہشتگردوں سے ملے ہوئے ہیں؟ آپ دہشتگردی کے بیانیے میں جان بوجھ کر ابہام کیوں پیدا کرتے ہیں؟‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبائی حکومت سے کڑا سوال کیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار (کیپسٹی بلڈنگ) بڑھانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے، کیا صوبائی حکام دہشتگردوں سے ملے ہوئے ہیں؟

ریاست ہے تو ہم سب ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے لیے تقریباً ایک مکمل چارج شیٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اب سستی اور لاتعلقی کا یہ طرز عمل ہرگز نہیں چلے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنا سب سے اہم اور معنی خیز پیغام دیتے ہوئے ملکی بقا کو ہر چیز پر مقدم قرار دیا ہے

مزید پڑھیں:پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا ہے کہ’ہمارے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے اور ریاست ہے تو میں اور آپ ہیں‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہی ہیں۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ سیکیورٹی صورتحال کے بجائے سیاسی احتجاج اور لانگ مارچز پر مرکوز رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امن و امان کے لیے خطیر بجٹ کے باوجود صوبائی پولیس کی اپ گریڈیشن اور انسداد دہشتگردی کے محکموں کی بہتری کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp