سماجی گھبراہٹ بڑھانے والی پوشیدہ عادتیں کون سی ہیں؟ جانیے ان سے نمٹنے کے طریقے

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئے لوگوں سے ملتے ہوئے جھجک محسوس کرنا، کسی محفل میں بات کرنے سے گھبرانا یا ملازمت کے انٹرویو سے پہلے بے چینی ہونا عام بات ہے لیکن جب یہ کیفیت انسان کو دوسروں سے ملنے، گفتگو کرنے یا روزمرہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے لگے تو یہ محض شرمیلا پن نہیں رہتی بلکہ سماجی گھبراہٹ کی علامت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کھانے کی خرابی کی بیماری تنہائی میں بڑھتی ہے، حل کیا ہے؟

سماجی گھبراہٹ بعض افراد میں اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ وہ دوست بنانے، تعلیمی سرگرمیوں، ملازمت یا دیگر سماجی مواقع سے دور رہنے لگتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ تنہائی، خراب تعلقات اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے سے بھی جڑی ہوئی پائی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق یونیورسٹی کے طلبہ میں سماجی گھبراہٹ نسبتاً عام ہے جبکہ مجموعی آبادی میں بھی ایک قابلِ ذکر تعداد زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر سماجی گھبراہٹ کی کیفیت کا سامنا کرتی ہے۔

سماجی گھبراہٹ کیسی محسوس ہوتی ہے؟

سماجی گھبراہٹ کا شکار شخص نئے لوگوں سے بات کرتے ہوئے یہ محسوس کرسکتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے مسلسل دیکھ رہے ہیں یا اس کی ہر بات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسے یہ خوف بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دے گا جس پر دوسرے لوگ اسے عجیب، غیر پراعتماد یا بور سمجھیں گے۔

اس کیفیت کے دوران چہرے پر گرمی محسوس ہونا، ہاتھوں میں سنسناہٹ، گھبراہٹ، الفاظ بھول جانا یا خود کو اپنے جسم سے الگ محسوس کرنا جیسی کیفیات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

سماجی صورتحال ختم ہونے کے بعد بھی بعض افراد بار بار یہی سوچتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہا، کہاں غلطی کی یا دوسروں نے ان کے بارے میں کیا سوچا۔ اس مسلسل سوچ بچار سے شرمندگی اور خود کو کمتر سمجھنے کا احساس مزید بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر

ماہرین کے مطابق سماجی گھبراہٹ میں مبتلا افراد اکثر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مسئلہ ان کی شخصیت میں ہے حالانکہ یہ ایک قابلِ فہم اور قابلِ علاج کیفیت ہوسکتی ہے۔

کون سی عادتیں سماجی گھبراہٹ کو مزید بڑھاتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق سماجی حالات سے بچنے کے لیے اختیار کی جانے والی بعض عادتیں وقتی طور پر سکون دیتی ہیں لیکن طویل مدت میں گھبراہٹ کو مزید مضبوط کرسکتی ہیں۔

ہر وقت خاموش رہنا: محفل میں گفتگو سے مکمل طور پر گریز کرنا یا صرف اس خوف سے بات نہ کرنا کہ کہیں کوئی غلط بات نہ نکل جائے۔

مختصر ترین جواب دینا: دوسروں سے بات چیت ختم کرنے کے لیے ہر سوال کا صرف ایک دو لفظوں میں جواب دینا اور گفتگو آگے نہ بڑھانا۔

موبائل فون کے پیچھے چھپ جانا: محفل میں مسلسل موبائل دیکھتے رہنا تاکہ کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

گروپ کے کنارے پر کھڑے رہنا: لوگوں کے درمیان ہونے کے باوجود ہمیشہ ایک طرف رہنا یا کسی ایسے شخص کے قریب رہنا جس کے ذریعے دوسروں سے بات کرنے کی ضرورت کم پڑے۔

صرف محفوظ موضوعات پر بات کرنا: گفتگو میں ہمیشہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرنا جن کے بارے میں پہلے سے معلوم ہو کہ ان پر بات کرتے ہوئے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

مزید پڑھیں: اپنے لیے بہترین تکیہ کیسے منتخب کریں؟ جانیے آسان طریقہ

ہر جملے کی پہلے سے مشق کرنا: بات کرنے سے پہلے ذہن میں بار بار جملے دہرانا اور اس خوف میں مبتلا رہنا کہ کہیں الفاظ غلط نہ نکل جائیں۔

آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے گریز کرنا:

دوسرے شخص سے براہِ راست نظریں ملانے سے بچنا تاکہ گھبراہٹ ظاہر نہ ہو۔

خود پر ضرورت سے زیادہ نظر رکھنا بھی مسئلہ ہے

ماہرین کے مطابق سماجی گھبراہٹ میں مبتلا افراد اکثر گفتگو کے دوران دوسروں کی بجائے خود کو مسلسل جانچتے رہتے ہیں۔

وہ سوچتے رہتے ہیں: کیا میرا چہرہ سرخ ہورہا ہے؟ کیا میری آواز عجیب لگ رہی ہے؟ کیا میں گھبرایا ہوا دکھائی دے رہا ہوں؟ کیا میں کوئی احمقانہ بات تو نہیں کررہا؟

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس کے بجائے توجہ گفتگو، سامنے موجود شخص اور اردگرد کے ماحول پر مرکوز کرنے کی کوشش کی جائے۔

اپنے خوف کو حقیقت کے ذریعے پرکھیں

سماجی گھبراہٹ سے نمٹنے کے لیے ماہرین کا ایک اہم مشورہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ان حالات کا سامنا کرے جن سے وہ خوفزدہ ہے۔

مثلاً کسی ملاقات میں ایک سوال پوچھنا، چھوٹے گروپ میں اپنی رائے دینا یا کسی نئے شخص سے مختصر گفتگو شروع کرنا۔ اس دوران یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جس منفی نتیجے کا خوف تھا، کیا واقعی وہی ہوا؟

سماجی گھبراہٹ میں مبتلا افراد اکثر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ وہ خود کو شرمندہ کردیں گے یا دوسرے لوگ انہیں بور سمجھیں گے۔ حقیقت کو چھوٹے چھوٹے تجربات کے ذریعے پرکھنا اس سوچ کو تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

’حفاظتی عادتیں‘ بھی چھوڑنا ضروری

ماہرین کے مطابق بعض لوگ سماجی صورتحال میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسی عادتیں اختیار کرلیتے ہیں جو وقتی طور پر گھبراہٹ کم کرتی ہیں مگر طویل مدت میں مسئلہ برقرار رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟

ہر جملے کو پہلے سے تیار کرنا، مسلسل موبائل استعمال کرنا، آنکھوں سے آنکھیں نہ ملانا، صرف ایک جاننے والے شخص کے ساتھ چپکے رہنا یا گفتگو سے مکمل گریز کرنا ایسی ہی عادتوں میں شامل ہوسکتا ہے۔

ان عادتوں کو بتدریج کم کرنا انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ سماجی حالات سے نمٹنے کے لیے ان سہاروں پر ہمیشہ انحصار ضروری نہیں۔

محفل ختم ہونے کے بعد بار بار سوچنے سے بچیں

سماجی گھبراہٹ میں مبتلا افراد اکثر کسی ملاقات یا گفتگو کے بعد اپنے الفاظ اور رویے کا بار بار جائزہ لیتے رہتے ہیں۔

وہ سوچتے ہیں کہ میں نے یہ بات کیوں کہی، مجھے یوں جواب دینا چاہیے تھا یا سامنے والا میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی مسلسل سوچ حقیقت کو بگاڑ سکتی ہے اور معمولی بات کو بھی بڑی غلطی محسوس کرواسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

اس لیے گفتگو ختم ہونے کے بعد ہر جملے کا بار بار تجزیہ کرنے کے بجائے اسے وہیں چھوڑ دینا بھی سماجی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کا حصہ ہوسکتا ہے۔

علاج اور ماہر کی مدد بھی مؤثر ہوسکتی ہے

اگر سماجی گھبراہٹ اس حد تک بڑھ جائے کہ انسان تعلیم، ملازمت، تعلقات یا روزمرہ زندگی میں معمول کی سرگرمیوں سے گریز کرنے لگے تو ماہرِ نفسیات یا دیگر متعلقہ طبی ماہر سے مدد لینا مفید ہوسکتا ہے۔

سماجی گھبراہٹ کے علاج میں ادراکی رویوں کی تھراپی جسے سی بی ٹی کہا جاتا ہے ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں انسان کو اپنی منفی سوچوں کو پہچاننے، انہیں نئے انداز سے دیکھنے اور بتدریج ایسے رویے اختیار کرنے میں مدد دی جاتی ہے جو خوف کو کم کرسکیں۔

ماہرین کے مطابق سماجی گھبراہٹ سے نمٹنا عموماً ایک تدریجی عمل ہے۔ ہر شخص ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھتا، اس لیے چھوٹی پیش رفت بھی اہم ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیے: ٹوٹتے رشتے صرف دل ہی نہیں صحت بھی برباد کردیتے ہیں، صورتحال تبدیل کیسے کی جائے؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے لوگوں سے ملنے میں جھجک یا کبھی کبھار گھبراہٹ کو فوراً بیماری نہ سمجھا جائے۔ مسئلہ اس وقت زیادہ توجہ طلب بن جاتا ہے جب یہ خوف انسان کو ان کاموں سے روکنے لگے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی تعلیم، ملازمت، تعلقات یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp