فرانس میں تعلیمی اوقات اور نامناسب سہولیات کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں 400 کے قریب ہائی اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور تقریباً 2,000 افراد کو پولیس تحویل میں لیا جا چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرس کے علاقے سے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والا طلبہ کا یہ احتجاجی سلسلہ تیزی سے پورے فرانس میں پھیل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئندہ ایک ہفتے کے دوران 4 لانگ مارچ : جڑواں شہروں کی سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے و مارکٹیں بند رکھنے کا فیصلہ
آخری سال کے طلبہ نے تعلیمی عمارتوں کے راستے بلاک کر دیے ہیں، جس کے باعث ملک کے کل 3,700 میں سے تقریباً 400 ہائی اسکول جمعہ کو مکمل طور پر بند رہے۔
Another high school BURNS in rioting Paris
Roger Verlomme school entrance set on fire amid nationwide strikes pic.twitter.com/UbwUZxZDUj
— RTVisual (@RT_Visual_on_X) October 2, 2026
اس کے علاوہ جنوبی شہر مارسیے اور دیگر علاقوں میں کلاسز آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
طلبہ کے مطالبات اور پرتشدد واقعات
مظاہرین طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے اوقات حد سے زیادہ طویل ہیں، کلاس رومز میں ہیٹنگ کا نظام غیر تسلی بخش ہے اور اساتذہ کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی شدید ہو چکا ہے۔
جمعہ کو پیرس کے 2 ہائی اسکولوں ’لیونارڈ ڈو ونچی‘ اور ’گسٹن باچلارڈ‘ کے داخلی راستوں کو آگ لگا دی گئی، جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کو طلب کرنا پڑا۔
دوسری جانب مغرب کے شہر رین اور بریسٹ میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں سیاہ لباس اور نقاب پوش طلبہ اور پولیس کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔
بریسٹ کے ’کیریچن‘ ہائی اسکول کے باہر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ 16 سالہ طالبہ لولا کا کہنا تھا کہ ’ہماری نظر میں ہم جیت چکے ہیں کیونکہ ہمارا اسکول بند ہے، لیکن پولیس کو ہم پر تشدد کرنے یا آنسو گیس استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘
جانی و مالی نقصان اور گرفتاریوں کی صورتحال
فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری کے مطابق اس تحریک کے آغاز سے اب تک عملے کے 65 ارکان زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 40 ہائی اسکول پرنسپلز بھی شامل ہیں۔
🇫🇷 France’s youth need to be STOPPED from destroying their own country.
Setting schools on fire and now BUSES??
An attack on the education system has become full destruction at the whims of disgruntled students.
Seriously, were these kids even paying attention in class in the…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 2, 2026
اس کے علاوہ تقریباً 170 طلبہ زخمی ہوئے ہیں اور 100 سے زیادہ ہائی اسکولوں کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے بتایا کہ تحریک کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً 2,000 افراد کو پولیس تحویل میں لیا جا چکا ہے، جن میں سے 90 فیصد کمسن یعنی نابالغ افراد ہیں۔
حکومتی ردِعمل اور والدین سے اپیل
وزیر تعلیم نے مظاہروں میں تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تحریک کو ’انتہائی پرتشدد اور انتہا پسند گروہوں نے یرغمال بنا لیا ہے‘۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو مظاہروں میں جانے سے روکیں تاکہ انہیں خطرے سے بچایا جا سکے۔
French Army finally shows up to the high school riots & IMO they waited entirely too long.
300+ cops injured. A firefighter set on fire. Buses burned. Buildings torched. Teachers doused in petrol.
This is what happens when violence gets taught as the first response to a…— ✌🏼Honey Bomb 🌻 (@honeyybomb) October 2, 2026
وزیر داخلہ نے پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران بچوں کے ہاتھوں ہونے والے مالی نقصان کی ذمہ داری والدین پر عائد کریں اور ان سے مرمت کے اخراجات وصول کریں۔
سیاسی کشیدگی اور مذاکرات کی کوشش
یہ احتجاجی تحریک فرانس میں صدارتی انتخابات سے محض 6 ماہ قبل سامنے آئی ہے جس پر شدید سیاسی بیان بازی جاری ہے۔
مزید پڑھیں:پنجاب کے تمام تعلیمی ادارے یکم اپریل سے کھلیں گے، وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات
حکومت نے اپوزیشن کی سخت گیر بائیں بازو کی پارٹی ’فرانس انبوؤڈ‘ اور اس کے رہنما جان لوک میلا نچون پر مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، تاہم پارٹی کے سینیئر رہنما مینوئل بومپارڈ نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے حکومت پر ’من گھڑت کہانیوں‘ کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے جمعہ کو تعلیمی یونینز اور طالب علم تنظیموں کے ساتھ ایک اجلاس طلب کیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔













