وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی اہم ملاقات، 20 ارب ڈالر کے اصلاحاتی پروگرام اور ٹیکسز پر طویل مشاورت

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی بینک نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری فریم ورک کے تحت سیلز ٹیکس کی ہم آہنگی، زرعی و پراپرٹی ٹیکسز کے نظام کی اصلاح اور معاشی رکاوٹوں کے خاتمے کے پالیسی اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔

وزارتِ خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے جمعہ کے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں جاری اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

عالمی بینک گروپ نے جنوری 2025 میں پاکستان کے لیے 10 سالہ ’کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2025-35‘ شروع کیا تھا، جس کا کل فنڈنگ حجم 20 ارب ڈالر ہے اور اس میں رعایتی و تجارتی قرضوں کی سہولیات شامل ہیں۔

ملاقات میں دونوں فریقین نے اصلاحات کی صرف منظوری کے بجائے ان پر مؤثر اور عملی عملدرآمد کی طرف بڑھنے پر اتفاق کیا، تاکہ معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور کاروباری ماحول میں واضح بہتری لائی جا سکے۔

روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری سہولیات

عالمی بینک کے وفد نے پاکستان میں روزگار اور معاشی نمو کے مجوزہ پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے ماحول، مالیاتی رسائی، شعبہ جاتی پیداواری صلاحیت اور لیبر مارکیٹ کے نتائج کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بات چیت کی۔

اس موقع پر چھوٹا اور درمیانے درجے کی صنعتوں’ایس ایم ایز‘کے لیے مالیاتی رسائی، تجارتی بہاؤ کو فروغ دینے کے لیے ’ایکسپورٹ امپورٹ (ایگزِم) بینک‘ کے لیے ایکسپورٹ فنانس پروڈکٹس، وزیراعظم کے رسائی برائے فنانس اقدام کے تحت یکساں دیوالیہ پن فریم ورک اور پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت بڑھانے کی تجاویز دی گئیں۔

زرعی، دواسازی اور مہارتوں کی ترقی کے اقدامات

شعبہ جاتی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے عالمی بینک نے فارماسیوٹیکل، میڈیکل مصنوعات اور زراعت کے شعبے میں مداخلت کی تجاویز پیش کیں۔

ان میں بیجوں کی رجسٹریشن میں بہتری، مخصوص اشیاء کی ڈی ریگولیشن اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کا حصول شامل ہے۔

اس کے علاوہ قومی پیشہ ورانہ اہلیت کے فریم ورک کو بہتر بنانے، بین الاقوامی سطح پر مہارتوں کی تسلیم دہانی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مدد سے بیرونِ ملک روزگار کے باضابطہ راستے قائم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ فریقین نے نیشنل ٹیرف پالیسی اور خاص طور پر آٹو موٹیو سیکٹر میں ٹیرف اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔

ٹیکسوں کی ہم آہنگی اور پراپرٹی اصلاحات

مالیاتی اور ریونیو اصلاحات کے حوالے سے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا، جس میں میڈیم ٹرم ریونیو اسٹریٹیجی اور ٹیکس پالیسی ماڈلنگ شامل ہیں۔

عمومی سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی ہم آہنگی کے تحت سروسز کی تعریفات اور کیٹیگریز کو یکساں بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری اور ڈیٹا شیئرنگ پر اتفاق کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ہڑتال، دھرنوں اور کاروباری بندش سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

زرعی انکم ٹیکس کے شعبے میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین، رجسٹریشن اور ٹیکس جمع کروانے کے ڈیجیٹل سسٹمز پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی صوبائی پراپرٹی ٹیکس کو مارکیٹ کی شرح سے ہم آہنگ کرنے اور رقوم کی تشخیص کے ڈیجیٹل سسٹمز پر بھی بات چیت ہوئی۔

کیپٹل مارکیٹ، رائٹ سائزنگ اور کریڈٹ ریٹنگ

اجلاس کے دوران کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے ذریعے مقامی کیپٹل مارکیٹ کی اصلاحات کے روڈ میپ، سرکاری شعبے کی کارکردگی میں اضافے اور حکومت کے ’رائٹ سائزنگ‘ ایجنڈے پر بھی تکنیکی معاونت کا تبادلہ کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ڈیٹ مینجمنٹ اور مقامی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے کریڈٹ پروفائل پر کی گئی تجزیاتی رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت مالیاتی و قرضوں کے استحکام، بیرونی ذخائر، پائیدار نمو اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ملک کی سلیورن ریٹنگز کو بہتر بنانے کے لیے انتھک محنت کرے گی۔ دونوں فریقین نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp