امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ شروع کیے 19 ماہ بعد بھی کینیڈا میں ’بائے کینیڈین‘ مہم مضبوطی سے جاری ہے اور ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ کینیڈین شہری بدستور امریکی مصنوعات سے گریز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا اور یورپ جمہوریتوں کے تحفظ کے لیے اتحاد بنائیں، مارک کارنی
ایباکس ڈیٹا کے سروے کے مطابق 77 فیصد کینیڈین امریکی مصنوعات سے مکمل طور پر اجتناب کرنے یا کم سے کم خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فروری 2025 میں 78 فیصد کے مقابلے میں تقریباً برقرار ہے۔
مزید کینیڈین اپنے ارادوں پر عمل بھی کر رہے ہیں۔ کینیڈین مصنوعات زیادہ خریدنے والوں کی شرح فروری 2025 میں 53 فیصد سے بڑھ کر ستمبر 2026 میں 61 فیصد ہو گئی۔
جن کینیڈین باشندوں کے لیے امریکا کا سفر ایک آپشن تھا ان میں سے 52 فیصد نے کہا کہ انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا جبکہ تجارتی جنگ کے آغاز پر یہ شرح 32 فیصد تھی۔
دیگر تبدیلیوں میں امریکی پیٹرول پمپس سے اجتناب شامل ہے جو 33 فیصد سے بڑھ کر 39 فیصد ہو گیا جبکہ 26 فیصد نے کہا کہ انہوں نے والمارٹ جیسے امریکی ریٹیلرز سے خریداری سے گریز کیا۔
مزید 26 فیصد نے ایمازون سے خریداری کم کر دی اور 20 فیصد نے امریکی اسٹریمنگ سروسز منسوخ کر دیں۔
مزید پڑھیے: یورپی یونین کا برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نئی سلامتی کونسل قائم کرنے کا اعلان
تاہم قیمت اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ایباکس ڈیٹا کے مطابق 61 فیصد کا خیال ہے کہ کینیڈا میں بنی مصنوعات عام طور پر اسی طرح کی امریکی مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔











