کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا اور چین کے غلبے والی دنیا میں کینیڈا اور یورپی ممالک کو اپنی منڈیوں، جمہوریتوں اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
ان کا یہ بیان یورپی یونین کی جانب سے کینیڈا کو ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز اور اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین کی کینیڈا کو یورپی یونین کا ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز کی اصطلاح تو استعمال نہیں کی، تاہم کہا کہ وہ اس تجویز میں پوشیدہ ’ بلند عزم ‘ کو سراہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور کینیڈا الگ الگ مضبوط ہیں لیکن متحد ہو کر مزید طاقتور بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یورپی یونین کا برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نئی سلامتی کونسل قائم کرنے کا اعلان
مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا اور یورپ امریکا اور چین کے مقابلے میں کوئی ’تیسرا بلاک‘ قائم نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جن کے ذریعے ان کی خودمختاری، آزاد منڈیوں، علاقائی سالمیت، آزادی اور جمہوری نظام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا یورپی یونین کے ساتھ اہم معدنیات، دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ، توانائی کے تحفظ، خلائی ٹیکنالوجی اور ادائیگیوں کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا کو ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز کسی مخالفانہ اقدام کی شکل اختیار کرتی ہے تو امریکا یورپ پر بھاری محصولات عائد کرسکتا ہے یا متعدد شعبوں میں تجارت روک سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
یورپی کمیشن نے تاہم کہا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی تجویز کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ طاقت کے لیے ہے۔ فرانس کے یورپی امور کے وزیر بینجمن حداد نے بھی کہا کہ یورپی یونین کی سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی کا فیصلہ امریکا یا کسی اور ملک کا اختیار نہیں۔
تاہم کینیڈا کو ’ایسوسی ایٹ رکن‘ کا درجہ دینے کی تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی تفصیلات بھی طے نہیں ہوئیں۔ یورپی یونین کے بعض سفارت کاروں نے اس تجویز پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک سے اس معاملے پر پہلے مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا تمام رکن ممالک اس تجویز کی حمایت کریں گے۔













