امریکا ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر سے اب تک 325 ملین بیرل تیل جاری کیا جا چکا ہے۔ دریں اثنا ’جی سیون‘ ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مزید 100 ملین بیرل تیل منڈی میں لانے کا اعلان کیا ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رکن ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے اب تک 325 ملین بیرل خام تیل اور اس سے حاصل ہونے والی دیگر مصنوعات جاری کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں ایجنسی کے رکن ممالک نے عالمی منڈی میں مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل لانے کا وعدہ کیا تھا۔
’جی سیون‘ ممالک کا ہنگامی فیصلہ
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ یہ تازہ ترین اپ ڈیٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی ’جی سیون‘ ممالک نے ایک اہم فیصلہ کیا تھا۔
’جی سیون‘ نے ’آئی ای اے‘ کی مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ فوری طور پر 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکا ایران جنگ
اس ہنگامی اقدام کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی سے متعلق ان سنگین خدشات کو دور کرنا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔
اس تنازع کی وجہ سے تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا تھا، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر یہ ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے حوالے سے ابہام
دوسری جانب ’جی سیون‘ ممالک کی جانب سے جاری ہونے والے اس نئے اعلان میں ایک ابہام بھی پایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:تیل کے عالمی بحران کے دوران توانائی کے صاف اور قابل تجدید ذرائع پر اعتماد بڑھنے لگا، رپورٹ
’جی سیون‘ نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ حال ہی میں اعلان کردہ 100 ملین بیرل تیل مارچ کے اسی وعدے کا حصہ ہے جس کے بقایا 75 ملین بیرل ابھی جاری ہونا باقی تھے، یا پھر یہ اس سے بالکل الگ اور اضافی مقدار ہے۔














