وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے مذاکرات اور دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ پرانا عذر کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت ہونی چاہیے، گزشتہ تین سال میں اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر سلمان اکرم راجا کو جواب دیتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسا ہی کیا لیکن پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی تجاویز کا کبھی جواب نہیں دیا۔ اب جب خیبر پختونخوا حکومت سیاسی طور پر کمزور ہے تو وفاقی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ طریقہ کار کی کال کا جواب دینا شروع کیا ہے، وہ بھی خیبر پختونخوا میں اپنا سیاسی سرمایہ بچانے کی حکمت عملی کے طور پر ایسا کیا جارہا ہے۔
Lets be honest and put things in perspective regarding the talks and the stance taken by your party:
1. PTI’s lame old excuse that all parties should have been consulted has outlived its life in the past three years, Federal government did exactly that but you never responded to our proposals. It is only now when your KPK government is politically weak, you have started responding to the Federal Government’s calls for joint mechanism to fight terrorism, that too only as a strategy to save your political capital in KPK. Your own spokesperson is denying it and is giving justifications in favour of terrorists.
2. Double standards and hypocrisy seem to be your policy; when you say that PTI KPK government has been taking steps to fight terrorism and is serious in this matter. On the contrary; your narrative on terrorism is in favour of terrorists. KPK Government’s policy only encourages and supports spread of terrorism in the province.
3. Some of the questions which require your attention; why doesn’t the KPK Government attend Federal Apex Committee meetings? Why doesn’t the KPK Government hold its own Apex committee meetings to review terrorism like other provinces hold their meetings? Why doesn’t the CM and his cabinet condemn the TTA regime for sponsoring terrorism inside Pakistan and conduct of cross border attacks on the posts and drone attacks by them? Has the KPK Government ever shown any outright support to the valiant Armed Forces and the police who have laid down thousands of lives fighting terrorism in KPK? Why hasn’t the KPK Government not implemented NAP as per which clear action is required against illegal spectrum, illegal Afghan immigrants, measures for capacity enhancement of Police and CTD?
4. Please do tell ; Why don’t you attend janazas of Shuhada? Why don’t you visit the security forces / police posts to show your support with them? How many times you have visited erstwhile FATA areas and took interest in their governance and development issues?
5. Once Afghan Taliban regime in support of terrorism in KPK sends drones and tashkeels why do you keep quiet? How many times have you stood shoulder to shoulder with our valiant FC soldiers standing guard on Pak Afghan Border against these terrorists ? Please give some answers before ranting confusion and useless rhetoric only.
5. This is an old strategy of PTI that when under pressure, they start talking of consultations and joint actions but on ground they do the exact opposite.
6. Due to non-implementation of NAP by the KPK Government not only has terrorism thrived in KPK but its economy has been badly shattered for which only PTI is responsible.
7. So stop selling this false narrative of collective consultations, jirgas or any other method as this means nothing on ground other than delaying tactics.
8. This time the State won’t let you embroil and confuse people by your old age rhetoric and verbose that has already brought KPK to the brink of collapse. No More!!!!
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 4, 2026
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اپنے ترجمان اس کی تردید کررہے ہیں اور دہشتگردوں کے حق میں جواز پیش کررہے ہیں۔
’دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے دہرے معیار ہیں‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ دہرا معیار اور منافقت معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف اقدامات کر رہی ہے اور اس معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ دوسری جانب دہشتگردی سے متعلق پی ٹی آئی کا بیانیہ دہشتگردوں کے حق میں ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی صوبے میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں کیوں شریک نہیں ہوتی؟
عطااللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں کیوں شرکت نہیں کرتی؟
انہوں نے کہاکہ دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کا جائزہ لینے کے لیے اپنے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیوں نہیں بلاتی؟
عطااللہ تارڑ نے سوال کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی افغان طالبان حکومت اور اس کی جانب سے سرحد پار حملوں، پوسٹوں پر حملوں اور ڈرون حملوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے کہا کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت نے کبھی ان بہادر مسلح افواج اور پولیس کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جنہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں جانیں قربان کی ہیں؟
عطااللہ تارڑ نے مزید سوال کیاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا، جس کے تحت غیر قانونی اسپیکٹرم، غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف واضح کارروائی اور پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات ضروری ہیں؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ شہدا کے جنازوں میں کیوں شرکت نہیں کرتے؟ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی چوکیوں پر جا کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے پوچھا کہ پی ٹی آئی نے سابق فاٹا کے علاقوں کا کتنی مرتبہ دورہ کیا اور وہاں کے طرز حکمرانی اور ترقیاتی مسائل میں کتنی دلچسپی لی؟
افغان طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں پر خاموشی کیوں؟
عطااللہ تارڑ نے سوال کیاکہ جب افغان طالبان حکومت، جو خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی حمایت کرتی ہے، ڈرون اور تشکیلیں بھیجتی ہے تو پی ٹی آئی خاموش کیوں رہتی ہے؟
انہوں نے پوچھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کتنی مرتبہ پاک افغان سرحد پر ان دہشتگردوں کے خلاف پہرہ دینے والے بہادر ایف سی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر یکجہتی کا اظہار کیا ہے؟
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پہلے ان سوالات کے جوابات دیے جائیں، صرف الجھن پیدا کرنے والی باتیں اور بے فائدہ بیان بازی نہ کی جائے۔
’دباؤ میں آکر پی ٹی آئی مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی بات کرتی ہے‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ یہ پی ٹی آئی کی پرانی حکمت عملی ہے کہ جب وہ دباؤ میں آتی ہے تو مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی بات شروع کردیتی ہے، لیکن عملی طور پر اس کے بالکل برعکس اقدامات کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث نہ صرف صوبے میں دہشتگردی پروان چڑھی بلکہ صوبے کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی، جس کی ذمہ دار صرف پی ٹی آئی ہے۔
’مشاورت اور جرگوں کا بیانیہ تاخیری حربے کے سوا کچھ نہیں‘
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اجتماعی مشاورت، جرگوں یا کسی بھی دوسرے طریقہ کار کے بیانیے کو مزید پیش نہ کیا جائے، کیونکہ زمینی سطح پر اس کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ صرف تاخیری حربوں کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس بار ریاست پی ٹی آئی کو اپنے پرانے بیانیے اور طویل بیان بازی کے ذریعے لوگوں کو الجھانے اور گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ یہی بیانیہ اور طویل بیان بازی خیبر پختونخوا کو تباہی کے دہانے تک لے جا چکی ہے۔













