وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے ہمیشہ بات کرکے یوٹرن لے لیتے ہیں اور اپنے دہرے معیار کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسلام آباد میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کی ایک پالیسی ہے کہ دہشتگردوں کو کیسے پروان چڑھانا ہے۔ فائدے آپ پاکستان سے لیتے ہیں اور حمایت آپ افغانستان کی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی میں تبدیلی دہشتگردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی نے کبھی دہشتگردی کے خلاف سنجیدگی نہیں دکھائی۔ آپ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہاکہ یہ پی ٹی آئی کی بی اور ٹی ٹی اے کی سی ٹیم ہے۔ پی ٹی آئی کا دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ خیبر پختونخوا واحد صوبائی حکومت ہے جو اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتی۔ پی ٹی آئی افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کی مذمت بھی نہیں کرتی۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ شہدا کے جنازوں پر جانے سے انہیں کون روکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ترجیح صرف قیدی کو رہا کروانا ہے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ یہ اپنی بات سے پھر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دوہرا معیار ترک کرنے کو تیار نہیں۔ ہم کسی کو امن و امان خراب نہیں کرنے دیں گے، مکمل بندوبست کیا جائے گا۔













